سفر میں رکے نہ کوئی ۔۔۔اے ایس آئی معراج الدین حیدری کے جذبے کی دلچسپ کہانی

0

دوسروں کے بارے میں سوچنے والے اور ان کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرنے والے اس دنیا میں زیادہ نہ سہی، لیکن کچھ لوگ تو ہیں ضرور۔ ایسے ہی ایک ہمدرد کا نام ہے سید معراج الدین حیدری۔ انھوں نے انوکھی سوچ کے ساتھ ایک نیا کام شروع کیا ہے۔ یہ خدمت خلق کا ایسا کام ہے جس کے بارے میں سن کر یقینا آپ چونک جائیں گے۔ پہلے آپ یہ تصور کریں کہ رات کا وقت ہے اور آپ کی گاڑی میں پٹرول ختم ہوگیا ہے اور دائیں، بائیں کہیں بھی چاروں طرف کافی دور تک کوئی پٹرول پمپ نہیں ہے۔ اب آپ یاتو اپنی گاڑی ڈھکیل کر لے جائیں یا پھر کہیں پارک کرکے پیدل گھر چلے جائیں گے۔ ایسے میں اگر کوئی مسیحا آپ کو پٹرول دے دے تو آپ کو کتنے خوش ہوں گے۔ یہ کوئی خیالی کہانی نہیں ہے۔ ایسا حیدرآباد کی سڑکوں پر اکثر ہورہاہے اور مدد کرنے والے مسیحا کا نام ہے سید معراج الدین حیدری۔ میدک کے ضلع نارائن کھیڑ میں سیدسراج الدین حیدری اور شہزادی بیگم گھر انھوں نے آنکھ کھولی۔

بچپن میں ہی انھیں خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہوا تھا۔ اس تعلق سے انھوں نے بتایا کہ ”محمد عبدالمجید صاحب نامی ایک ریٹائرڈ ٹیچر تھے۔ وہ ہر وقت اپنے ساتھ بسکٹس رکھتے تھے۔ جہاں بھی انھیں بچے نظرآتے وہ انھیں بسکٹ دے دیتے اور بچوں کے چہروں پر خوشی چھلکنے لگتی اور خوشی سے ”بسکٹ مولوی صاحب“کہتے جاتے تھے “۔ بچپن کے اس واقعہ نے ان کے دل پر اثر کیا اور وہ کچھ نہ کچھ نیا کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے تھے۔

ایک دفعہ وہ NDTV دیکھ رہے تھے تو ایک آدمی کے بارے میں بتا یاجارہا تھا کہ ایک وظیفہ یاب شخص اپنے پیسوں سے راستوں پر گڑھے بھررہا ہے۔ یہ دیکھ کر انھیں خیال آیا کہ اگر کوئی وظیفہ یاب شخص ایسا کررہا ہے تو میں تو بیگم پیٹ پولیس اسٹیشن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر ٹریفک پولیس کی سرویس پر ہوں اور مجھے بھی کچھ نیا کرنا چاہےے۔ تب ہی انھیں ٹریفک کی سرویس کے دوران کئی ایسے لوگ دکھائی دئے جو اچانک پٹرول ختم ہونے پر گاڑی کو ڈھکیل کر لے جارہے تھے۔ انھوںنے فیصلہ کیا کہ وہ ”مفت پٹرول“ اسکیم شروع کریں گے اور راستے میں جو بھی ضرورت مند دکھائی دے گا اسے مفت آڈھا لیٹر پٹرول دے دیں گے۔

خدمت خلق کے معاملے حیدری صاحب کافی خوش قسمت ہیں ان کے گھروالوں کا انھیں بھرپور تعاون حاصل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ” میرے تایا زاد بھائی سابق سیشن جج سید تاج الدین حیدری جو ضلع میدک کے پہلے سیشن جج تھے نے بھی میرے جذبہ خدمت خلق کی ستائش کی۔ میر بڑے بھائی سید جلال الدین حیدری ریٹائرڈ آرٹی سی انسپکٹر بھی اس جذبہ کی قدرت کرتے ہیں۔ میر بچے بھی اس کام سے کافی خوش ہیں،فرزند سید منہاج الدین حیدری ایم بی اے ملازمت گوگل، سید معز الدین حیدری جین پیک میں برسرخدمت ہے اور تیسرے فرزند ایم بی اے کےطالب علم ہیں اورمیری دختر کی شادی ہوچکی ہے۔“

خدمت خلق کے جذبہ کے دوران بعض لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ پیسے کیوں نہیں لیتے؟ ہم اپنی خوشی سے دے رہے ہیں۔ تو انھوں نے کہا کہ ”میں نے یہ کام خدمت خلق کے جذبہ سے کیا ہے اور کسی ضرورت مند کی مدد کی ہے، آپ بھی کسی ضرورت مند کی مدد کریں اور ان کی دعائیں لیں ہم کو تو بس دعا ہی کافی ہے“۔ بعض لوگ ان کے جذبہ سے اتنا خوش ہوئے کہ انھوں نے یہ تک بھی کہہ دیا کہ آپ اپنے جذبہ کو جاری رکھیں اور اگر آپ چاہیں تو ہم مہینہ بھر کا پٹرول فراہم کریں گے لیکن انھوں نے اسے قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ آپ کسی اور کی مدد کریں۔

معراج الدین حیدری ہمیشہ اپنے ساتھ ایک ڈائری رکھتے ہیں اور جن لوگوں کی وہ مدد کرتے ہیں ان کے نام وغیرہ نوٹ کرلیتے ہیں۔ اس ڈائری میں 280سے زائد لوگوں کے بارے میں لکھا ہے۔

جب ان سے کسی ایک واقعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ”امیرپیٹ ڈی کے روڈ پر ایک صاحب رات کے 8:30 بجے اہلیہ اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ کہیں جارہے تھے اچانک پٹرول ختم ہوگیا۔ آس پاس 2 کلومیٹرتک کوئی پٹرول پمپ نہیں ہے۔ ہاﺅسنگ بورڈ میں ان کا گھر ہے اور وہاں تک جاسکتے ہیں اور نہ گاڑی ڈھکیل کر پٹرول پمپ تک جاسکتے ہیں۔ تب ہی اتفاق سے میری نظر ان پر پڑی۔ میں نے ان سے پوچھا اور انھوں نے سارا حال سنایا تو میں نے ان کی گاڑی میں آدھالیٹر پٹرول ڈال دیا۔ وہ اس قدر خوش ہوئے کہ انھوں نے مجھ سے کہا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ایسے لوگ بھی ہیں جن کے سینے میں دوسروں کے لےے درد ہے۔ آپ اس کے بدلے جو بھی تعاون مانگے میں کرنے کے لےے تیار ہوں، میں نے انھیں ان سے کہا آپ کسی اور کی مدد کریں“۔

معراج الدین حیدری ہمیشہ اپنے ساتھ آدھا آدھا لیٹر کے باٹلس رکھتے ہیں اگر کوئی انھیں پریشان حال گاڑی کو ڈھکیلتا ہوا نظرآتا ہے تو وہ اس کی مدد کرتے ہیں۔ بعض لوگ ان راست رابطہ نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنی پریشانی سے جوجھ رہے ہوتے ہیں اور معراج الدین خود ان کے پاس جاکر پوچھتے ہیں کیا مسئلہ ہے۔ اسی طرح کے ایک واقعہ کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ ”بیگم پیٹ ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک میاں بیوی گاڑی سے اتر کر گاڑی ڈھکیل کر ریلوے پارکنگ کی طرف جارہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہاکہ ہماری گاڑی میں پٹرول ختم ہوگیا ہے اور پٹرول پمپ تک جانے تک ہمیں دیر ہوجائے گی اور ہمیں جلدی جانا ہے اس لےے ہم اسے ریلوے پارکنگ میں رکھ کر آٹو سے چلے جائیں گے اور بعد میں اسے حاصل کرلیں گے۔ تب میں نے انھیں آدھالیٹر پٹرول دیا اور انھوں نے بنا پریشانی کے اپنی منزل کی طرف سفر جاری کردیا۔“

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جلدی میں گھر سے پیسے ساتھ رکھنا بھول جاتے ہیں اور پٹرول ختم ہوجاتاہے اور وہ مشکل میں پھنس جاتے ہیں اور اگر پٹرول پمپ قریب بھی ہو تو وہ مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک معاملہ انھوں نے اس طرح بیان کیا ہے ”امیر پیٹ چوراہے پر ایک صبح میں نے دیکھا کہ ایک والد اپنے بچے کو اسکول چھوڑنے جارہے تھے اور راستہ میں ان کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا۔ اب ان کے پاس صرف 20 روپے تھے۔ میری نظر پڑی تو انھوں نے کہاکہ جلدی اسکول جانا ہے لیکن گاڑی میں پٹرول نہیں ہے ہمارے پاس صرف 20 روپے ہی ہے۔ میں نے ان کی گاڑی میں مفت پٹرول ڈال دیا اور وہ بے انتہا خوش ہوگئے۔ “

اس بھاگم بھاگ کے دور میں آفس وقت پر پہنچنا ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ کہیں ٹریفک جام ہے تو کہیں کوئی سڑک کا کام چل رہاہے اور کہیں میٹرو ریل کا کام چل رہا ہے۔ ایسے میں وقت پر آفس جانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں لگتا۔ اگر سفر دور کا ہو اور غفلت میں گاڑی کا پٹرول بھی ختم ہوگیا ہو تو پریشانی دگنا ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہائی ٹیک سٹی کے نوجوان کا ہے۔ معراج الدین حیدری بتاتے ہیں ”بیگم پیٹ فلائی اوور پر ایک ہائی ٹیک سٹی کے ملازم نوجوان کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا۔ اسے ہائی ٹیک سٹی جانا تھا۔ جلدی میں وہ پیسے ساتھ رکھنا بھی بھول گیا تھا اور ہائی ٹیک سٹی تک جلدی پہنچنا تھا۔ میں نے اس کی گاڑی میں آدھا لیٹر پٹرول ڈیا اور اس سے دریافت کیا کہ کہاں تک جانا ہے اور ضرورت تو نہیں ہے۔ تب اس نے کہاکہ ہائی ٹیک سٹی جانا ہے تومیں نے اس کی گاڑی میں مزید آدھا لیٹر پٹرول ڈیا اور وہ اپنے آفس کی جانب چلا گیا“۔

ایسے ہی کئی واقعات اور ہیں جس سے پتہ چلتاہے کہ یہ کتنا اہم کام ہے اور اس کی کتنی افادیت ہے۔ مستقبل کے بارے میں وہ بتاتے ہیں ”مجھ سے جوبھی پوچھتے ہیں میں ان سے کہتاہے کہ وہ ایک لیٹر پٹرول سے ہی یہ کام شروع کرسکتے ہیں اور جہاں کہیں کوئی پریشان حال دکھائی دے اس کی مدد کریں اور جہاں تک ممکن ہوسکے بھلائی کا سلسلہ جاری رکھیں“۔