لکھنؤ سے 'انموبی' تک کا کامیاب سفر...ایڈ ٹیک ورلڈ کے ماہر 'موہت'

0

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں پلے بڑھے موہت نے 80 کی دہائی میں اپنے بچپن کا زمانہ کرکٹ اور كنچے کھیلتے ہوئے گزارا۔ موہت کو پتنگ اڑانے کا بہت شوق تھا اور اس نے اس میں خاصی مہارت بھی حاصل کی تھی۔ پتنگ بازی کے مقابلوں میں حصہ لے کرانعامات بھی جیتے۔ موہت کے والد اتر پردیش میں محکمہ صحت کے ملازم تھے اور وہ کام کے سلسلے میں زیادہ تر سفر پر ہی رہتے تھے۔ انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت اپنی ماں کے ساتھ ہی گزارا اور اسی وجہ سے ان کی زندگی میں ان کی ماں کا بہت اثر ہے۔ موہت بچپن سے ہی انجینئر بننا چاہتے تھے، لیکن انہیں کس کام میں مہارت حاصل کرنی چاہیے اس کا انداز نہیں ہو پا رہا تھا۔

اپنے بچپن کی انجینئرنگ کے جذبہ سے منسلک یادوں کو تازہ کرتے ہوئے انہیں ایک پرانا قصہ یاد آتا ہے جب انہوں نے سائیکل کس طرح کام کرتی ہے یہ دیکھنے کے لئے اس کے سارے پرزے کھو ل کر الگ کر دئے، لیکن جب انہیں واپس جوڑنے کرنے کی باری آئی تو وہ ایسا نہیں کر سکے۔ انہوں نے اس کھلی ہوئی سائیکل کو ایک چادر میں لپیٹا اور ایک مکانک کے پاس لےجاكر دوبارہ ٹھیک کروایا۔ خوش قسمتی سے ان کی ماں کو ان کی اس حرکت کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں چلا۔

جے ئی کا امتحان کامیاب ہونے کے بعد انہیں رڑکی اور بی ایچ يو میں آئی آئی ٹی کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ اگرچہ وہ اس وقت کی ترجیحاتی شاخوں میکانیکل، الیکٹریکل، الیکٹرانکل اور مواصلات یا کمپیوٹر سائنس کو منتخب نہیں کر پائے۔ ہمت نہ ہارتے ہوئے انہوں نے اسی سال آئی آئی ٹی روڑکی میں دھات اور مواد سائنس انجینئرنگ (Metallurgical and Material Sciences engineering) میں داخلا لیا۔ تاہم آئی آئی ٹی میں ان کا پہلا سال کچھ خاص نہیں رہا، لیکن حالات ایک دلچسپ موڑ لینے کوتیاربیٹھے تھے۔

ان کے زیادہ تر دوست اور ساتھی کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کے تھے اور ان میں شامل ہونے کے لئے موہت نے دوسرے سال میں متبادل موضوع کے طور پر C + + کا انتخاب کیا۔ یہ فیصلہ ان کے کئے کافی فائدا بخش ثابط ہوا اس میں ایک اضافی فائدہ یہ بھی تھا کہ کمپیوٹر لیب ایک نو تعمیر شدہ عمارت میں واقع تھی، جس ائر کنڈیشنگ کی سہولت بھی تھی۔ اس وجہ سے وہ جگہ سونے کے لئے بھی ایک اچھی جگہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اس سے موہت کی کی زندگی کو کو نیا رخ مل گیا۔ انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد انہیں ٹاٹا سٹیل میں کام مل گیا۔ تاہم موہت نے کاروباری شعبہ میں کام کرنے کے مقام پر کمپیوٹر شعبہ میں کام کرنے کو ترجیح دی۔ وہاں پر چیزوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے چلنے میں مدد کرنے کے لئے انہیں آٹومیٹک کرنے والے ایک منصوبے پر کام چل رہا تھا اور ملازمین کی تنظیموں کو ڈر تھا کہ اس آٹومیشن کے لاگو ہوتے ہی ان کی ملازمتوں پر خطرہ بڑھنے لگے گا۔ نو ماہ کے چھوٹی سی مدت کے دوران وہاں چلنے والے جدوجہد کے ماحول نے موہت کو بہت کچھ سکھایا۔ اس کے بعد موہت نے ایٹی اين ڈی پیكیبل لیبزمیں نوکری کر لی اور 1998 میں کرسمس کے موقع پر وہ پہلی بارامریکی سفر پر نکل پڑے۔

ایٹی اين ڈی کے بعد وہ امریکہ کی نئی کمپنی ورجن موبائل میں مقرر ہوئے۔ ایٹی اين ڈی کے برعکس وہاں کا ماحول بالکل ایک ابتدائیہ والا تھا اور حل کرنے کے لئے مسائل کا انبار لگا رہتا تھا۔ ورجن موبائل امریکہ کی ابتدائی ٹیم بہت چھوٹی تھی اور موہت آپریشن میں لگی ٹیم کو سنبھال رہے تھے۔ بس یہیں پر انہوں نے نظام پیمائی(سسٹم سکیلنگ) میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا اور انہیں ایک ایسا تجربہ حاصل ہوا جو بعد میں 'انموبی' میں ان کے بہت کام آیا۔

سال 2007 کی بات ہے۔ جب موہت کی ملاقات نوین تیواری، امت گپتا اور ابھئے سنگھل سے ہوئی۔ انہوں نے مل کر موبائل فون کے ابھرتے ہوئے مارکیٹ میں ایک انٹرپرائز شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے 'ایم كھوج' کے نام سے ایک کمپنی کی بنیاد ڈالی اور جب انہوں نے ایپلی کیشنز کے مارکیٹ کو بڑھتے ہوئے دیکھا تو اشتہارات کو اپنا اہم کام بنا لیا۔

اس کے بعد انہوں نے ہندوستانی مارکیٹ کو نشانہ بنانے کے لئے ممبئی کا رخ کیا۔

امریکہ سے ممبئی آنے اور یہاں پر ایک دفتر قائم کرنے میں موہت نے صرف 15 دن کا وقت لیا ۔ جلد ہی یہ ٹیم بنگلور آ گئی جہاں پر تکنیکی سٹارٹپس کے لئے بہتر ماحول اور حمایت کے نظام موجود تھی۔

موہت نے 'انموبی' کے لئے سب سے پہلے ایڈ سرورکا کوڈ بنایا، جس نے انہیں ٹیکنالوجی کی بلندی پر پہنچایا۔ وہ پیچیدہ ڈھانچے کے بڑے پیمانے پر بننے والے بلیو پرنٹ یا خاکہ تیار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اگرچہ وہ خود کو عام کہلانا پسند کرتے ہیں، لیکن جلد ہی وہ اس بات کو بھی صاف کر دیتے ہیں کہ یہ لفظ ہر کسی کے لئے کام نہیں کرتا ہے۔

جب 'انموبی' میں ٹیکنالوجی سے منسلک عہدوں پر تقرریوں کی بات آتی ہے تو موہت کہتے ہیں کہ وہ ہر منتخب رکن سے خود ملتے ہیں اور یہ 8 سے 9 مراحل تک چلنے والا ایک انتہائی مشکل عمل ہے۔ وہ چٹکی لیتے ہوئے کہتے ہیں، '' میرے خیال سے اگر میں اس کمپنی کا شریک بانی نہیں ہوتا تو میرے لئے بھی انٹرویو کا دور پار کرنا ہی ناممکن ہوتا۔ ''

فی الحال سافٹ ویئر انجینئرز کے منیجر بننے کا چلن بڑھ رہا ہے، اس موضوٰع پر روشنی ڈالتے ہوئے موہت کہتے ہیں، '' ایم بی اے کبھی بھی میری ترجیحات میں نہیں رہا اور میں نے ہمیشہ ہی کچھ تکنیکی کام کرتے ہوئے نظام کو تیار کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس بات کی قابلیت رکھتا ہوں کہ انہں کام پر رکھنے کے لئے ان کی جانچ کر سکوں۔ میرے پاس ایسے لوگ ہیں جو گزشتہ 12 سالوں سے کوڈنگ کر رہے ہیں اور اب بھی تھکے نہیں ہیں۔ میری نظروں میں ایک اچھا سافٹ ویئر انجینئر کسی مشہور شخصیت سے کم نہیں ہے۔ میں زندگی میں کوڈنگ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے انجینئر کو اپنا سب کچھ خوشی سے دینا پسند کروں گا۔ ''

'انموبی' کے علاوہ موہت کینسر کی خدمات کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں۔ یہ کام سال 2012 میں اس وقت شروع ہوا جب انہیں اپنی ماں کو سینے کا کینسر ہونے کا پتہ چلا۔ وہ كہتے ہیں، '' ہم نے خود کو پڑھے لکھے بیوقوفوں کی طرح محسوس کیا۔ اس کے بارے میں معلومات ہونے کے باوجود میں اپنے اہل خانہ کو باقاعدہ ٹیسٹ کے لئے نہیں لے جا ملا۔ خوش قسمتی سے وقت پر مداخلت کی وجہ سے وہ اس بیماری پر قابو پانے میں کامیاب رہیں، لیکن وہ وقت پورے خاندان کے لیے پریشانیوں سے بھرا رہا۔ اب وہ باقاعدگی سے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ 'انموبی' SVG کی کینسر ہسپتال کے لئے اپنی سطح سے فنڈز بھی جمع کرتا ہے۔

مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے موہت کہتے ہیں کہ 'انموبی' کو دنیا کی سب سے بڑی تکنیکی کمپنی بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے وہ کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔    

تحریر -سندھو کشیپ


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem