ایک باہمت انسان کی کہانی جس نے مشکلوں میں گھرا ہونے کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا

بیماری کی وجہ سے نوکری چلی گئی ، لیکن ایکوٹوریزم کو روزگار مہیا کررہا ہے ایک سوفٹ ویئر انجینئر

0


اکثر ہم نے سنا ہے کہ سب سے مضبوط انسان وہ ہوتا ہے جومشکل وقت میں ہمت نہیں ہارتا اور ہر حال میں خود کو سنبھالے رکھتا ہے - مشکل مراحل سے خود کو نکالنے کی کوشش میں ہمیشہ کوشاں رہتا ہے- غور کریں جس وقت آپ کو نوکری کی سخت ضرورت ہے اسی وقت آپ کو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی انسان کی کہانی ہے - جس کو اپنی بہترین نوکری سے مشکل حالات میں استفعی دینے پر مجبور کیا گیا کیونکہ اس کے بائیں پیر میں بہت تکلیف تھی - جسم کا بیمار ی کی وجہ سے نڈھال ہونا اور اسی دوران نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھنا انسان کو بھی بڑا صدمہ دے جاتا ہے لیکن ہیمانشو کالیا تو بہت صابر و حوصلہ مند انسان تھے ۔ تبھی انہوں نےان سب مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ایسا کام شروع کیا کہ آج وہ دوسروں کےلیے خود مثال بن گئے - آج وہ اپنی محنت کی وجہ سے اپنی مثال آپ تو ہیں ہی بلکہ دیگر آدی واسیوں کو بھی روزگار مہیا کروارہے ہیں - انہی کی کوششوں کی وجہ سےاتر پردیش کے بہرائچ کے کرتا نیا گھاٹ کو اتر پردیش سرکار نے سیروتفریح کے طور پر تیار کرنے کےلیے ہیمانشو کالیا کے بنائے گئے پروجیکٹ یعنی روڈ میپ کو منظور ی دے دی ہے -


اتر پردیش کے بہرائچ میں رہنے والے ہیمانشو کالیا بنیادی طور پر ایک سافٹ وئیر انجینئر ہیں - انہوں نے اپنی بی ٹیک کی پڑھائی سال دو ہزار سات میں بھوپال سے مکمل کی- اس کے بعد تقریبا چار سال تک انہوں نے نوئیڈا کی ایک فارم میں نوکری کی۔ اسی دوران انکے پیر میں تکلیف ہونے لگی جس کی وجہ سے سرجری کروانی پڑی- سرجری کے بعد چھ ماہ تک انہیں بستر پر ہی رہنا پڑا ۔ اسی وجہ سے جس کمپنی میں وہ ملازمت کررہے تھے انہی لوگوں نے انہیں استفعی دینے پر مجبور کردیا اور انہیں استفعی دینا پڑا - لیکن کہا جاتا ہے کہ ہر مسئلہ اپنے ساتھ حل بھی لاتا ہے - اسی لیے اگرچہ ایک راستہ بند ہوجائے تو ہم نے ہمت نہیں ہارنا چاہئے ۔الله اسی کے ساتھ دس راستے کھول دیتا ہے - پیر کی تکلیف ٹھیک ہونے کے بعد انہوں نے کچھ دنوں تک گڑگاؤں کی ایک کمپنی میں کام کیا -اسکے بعد دو ہزارگیارہ میں وہ انٹرپرینئر شپ مینیجمنٹ میں ایم بی اے کرنے کےلیے اپکس ایل آر ای جمشید پور چلے گئے - 


ہیمانشو نے یور اسٹوری کو بتایا

" اچانک میرے والد کا انتقال ہوجانے کی وجہ سے میں اپنے گاوں ناگپور بہرائی لوٹ آیا ۔ یہاں پر میں نے اپنے خاندانی کاروبار ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں توجہ دینی شروع کی۔ لیکن میں کچھ منفرد کام کرنے کی چاہ رکھتا تھا۔ میرے دماغ میں میرا منٹور اور اے ایس ایل آر آئی جمشید پور میں تجارت ، کاروبار کے ڈیولپمینٹ کے چئیر پرسن پربل کی بات ہمیشہ دماغ میں گردش کرتی رہتی تھی -کچھ بزنس کرنا ہے لیکن کیا کروں یہ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا - ایک دن میں بہرائی کے کرتویا گھاٹ پر ندی کنارے گھوم رہا تھا - یہاں کے قدرتی مناظر نے میرے دل و دماغ میں جگہ بنالی - میں نے دیکھا ندی کنارے جنگل کے درمیان میں مٹی اور بانس سے بنی جھونپڑیاں ہیں - تبھی میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس علاقے کو ایکوٹوریزم کے طور پر تیار کیا جائے –"


سال دو ہزار بارہ میں جب انہوں نے اس پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کیا تو سب سے پہلے مسئلہ تھا زمین کا کیونکہ اس کام کےلیے زمیں چاہئے تھی - اس سلسلے میں انہوں نے ریاستی حکومت کے محکمہ جنگلات اور نابارڈ کے سامنے کئی بار اپنے کام کا مظاہرہ پیش کیا ۔ لیکن ہیمانشو کا کہنا ہے کہ پھر بھی انہیں نہ تو کوئی معاشی مدد فراہم کی گئی اور نہ جگہ دی گئی - جس کے بعد انہوں نے اپنا ایک سال بھاؤنی پور گاؤں میں رہ کر گزارا - اس کے بعد انہوں نے مقامی لوگوں کی مددسے زمین حاصل کی۔ اس طرح پہلے سال ہیمانشو نے اس زمین پر ایک جھونپڑی تیار کروائی - شروعات میں ان کے پاس کم ہی ٹوریسٹ آتے تھے - دھیرے دھیرے ان کے کاروبار میں ترقی ہوئی۔ آج ملک سے ہی نہیں بلکہ بیرون ملک سے بھی مسافر یہاں گھومنے آتے ہیں -


 ہیمانشو کے مطابق ،

" بہرائچ میں لوگ آج بھی قدرت کے زیادہ قریب ہیں- یہ لوگ اپنے گھر وں کو آج بھی روایتی طرز سے سجاتے ہیں - ساتھ ہی بانس کے استعمال سے بہت ہی خوبصورت اشیاء تیار کرتے ہیں - جنہیں یہاں آنے والے مسافر پسند کرتے ہیں -"

 ہیمانشو اپنے ٹورسٹوں کو دیہاتی اور کاروباری و تکنالوجی والے ماحول میں سیروتفریح کرواتے ہیں - تاکہ وہ یہاں کے قدرتی مناظر کا لطف اٹھا سکیں - جنگل میں سیروتفریح کےلیے لے جاتے ہیں - یہاں تھرور ذات کے لوگ رہتے ہیں۔ ان سے بھی ملاتے ہیں۔ ان کا ڈانس اور دوسری سرگرمیاں بتاتے ہیں - ان کےبچے مسافروں کا خیر مقدم کرتے ہیں - انہیں تھرور ذات کے لوگوں کا خاندانی کھانا کھلاتے ہیں - ارہر کی دال ، چولہے کی روٹی ، چٹنی ، دال باٹی ، چورما ان کی مخصوص غذا ہے- مسافر ان کی بنائی ہوئی اشیاء جو کہ معیاری بانس سے بنی ہوتی ہیں، انہیں خریدتے ہیں - ہیمانشو کے ایکو ٹوریزم کی بدولت بھاوانی پور کے علاوہ امبا ، پردیا ،یشنا پور اور فقیر پور ایسے کچھ گاوں ہیں جہاں پر رہنے والے لوگوں کو عملی طور پر روزگار حاصل ہوا ہے- ہیمانشو کے لحاظ سے یہاں رہنے والے خاندان میں کوئی گائیڈ کا کام کرتا ہے تو کوئی اپنی گاڑی سے مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مسافر عورتوں اور بچوں سے تیار کردہ سامان خریدتے ہیں - اب تو ہیمانشو کے مڈ ہٹ کے پاس کچھ دکانیں بھی کھل گئی ہیں - ہیمانشو کے اپنے اسٹاف میں سات لوگ شامل ہیں اور تقریبا دس خاندان اس کام میں شریک ہیں - 


ہیمانشو اس کام کے دوران آنے والی پریشانیاں شئیر کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔" یہاں ہر سال باڑھ آتی ہے- جس میں ان کی بنائی گئی مٹی کی جھونپڑیاں ، دیگر تیار کرہ مال بہہ جاتا ہے جس کی وجہ سے انہیں ہر سال نئی جھونپڑیاں تیار کرنی ہوتی ہیں –" ہیمانشو کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ محکمہ جنگلات نے علاقے میں سیروتفریح کو ترقی دینے کےلیے ان کی تجویز پر توجہ دی ۔ انہوں نے ایک مسودہ ریاستی حکومت کے پاس بھیجا تھا – مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں ہیمانشو کے مطابق وہ جلد ہی کھجوراہو میں اپنے کام کی توسیع کرنے جارہے ہیں۔ یور اسٹوری ٹیم کی جانب سے ہیمانشو کالیا کے منصوبوں کے لئے نیک خواہشات ! !

تحریر: ہریش بِشٹ

مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ

ویب سائٹ: www.katerniaecowildlife.com

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج    (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں....

آپ کی کہانیوں کے درمیان میری اپنی ایک کہانی.... شردھا شرما

امیج کنسلٹنٹ مانسی.... بڑی کمپنیاں بھی لیتی ہیں خدمات