ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان متالی راج کی زندگی کا دلچسپ سفر

ان قابلیت اور کامیابیوں کی وجہ سے دنیا میں انہیں "خواتین کرکٹ کا تندولکر" کہا جانے لگا۔ اس لڑکی کو لوگ ہندوستانی خواتین کرکٹ کی "سوپراسٹار کھلاڑی" متالی راج کے نام سے جانتے ہیں۔

0

اس لڑکی کے والد ایئر فورس میں کام کر چکے تھے۔ لازمی تھا کہ گھر میں نظم و ضبط ہو۔ لڑکی کی ماں اور اس کا بھائی بھی نظم و ضبط- کے پکے تھے، لیکن لڑکی گھر میں سب کے برعکس سست اور لاپروہ تھی۔ اسکول کی پہلی گھنٹی کا وقت ساڑھے آٹھ بجے کا ہوتا تو لڑکی آٹھ بجے اٹھتی تھی۔ یعنی گھر میں سب سے پیچھے۔ جب باپ نے اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھی اور سست-مزاجی سے تنگ آ گئے، تب انہوں نے ایک فیصلہ لیا۔ والد نے اپنی بیٹی کو کرکٹر بنانے کی ٹھانی۔ وہ روز اسے کرکٹ اکیڈمی لے جانے لگے۔ اس کرکٹ اکیڈمی میں لڑکی کا بھائی روز پریکٹس کیا کرتا تھا۔ بھائی اسکول کی سطح کے کرکٹ ٹورنمنٹ بھی کھیلا کرتا تھا۔ شروع میں تو لڑکی نے کرکٹ اکیڈمی جاکر اپنے اسکول کا "ہوم ورک" کیا، لیکن والد کے کہنے پر اپنے بھائی کی دیکھا دیکھی بیاٹ بھی تھام لیا اور نیٹس پر پریکٹس شروع کی۔ اب ہر روز باپ اپنی اسکوٹر پر بیٹے اور بیٹی دونوں کو کرکٹ اکیڈمی لے جاتے۔ بھائی کی طرح ہی لڑکی بھی نیٹس پر خوب پسینہ بہانے لگی۔ آہستہ آہستہ محنت رنگ لانے لگی۔ کرکٹ لڑکی کا پہلا پیار بن گیا۔ اور، لڑکی نے بھی کچھ اس طرح کرکٹ سے محبت کی کہ کرکٹ کو ہی اپنی زندگی اور زندگی کو ہی کرکٹ مان لیا۔ چونکہ محنت اور لگن تھی، ساتھ میں قابلیت بھی، لڑکی کرکٹ کے میدان پر اپنا مختلف رنگ جمانے لگی۔ اس نے ایسا رنگ جمایا کہ بہت سے لوگ اس کے دیوانے ہو گئے۔ اپنی صلاحیت اور محنت کے بل پر اس لڑکی نے میدان پر کئی ریکارڈ اپنے نام کئے۔ اپنے ملک کو کئی بار تاریخی جیت دلوائی۔

ان قابلیت اور کامیابیوں کی وجہ سے دنیا میں انہیں "خواتین کرکٹ کا تندولکر" کہا جانے لگا۔ اس لڑکی کو لوگ ہندوستانی خواتین کرکٹ کی "سوپراسٹار کھلاڑی" متالی راج کے نام سے جانتے ہیں۔

متالی راج نہ صرف بھارت کی اب تک کی سب سے کامیاب خاتون کرکٹر ہیں، بلکہ ان کا شمار دنیا کے بہترین بلّے بازوں میں ہوتا ہے۔ متالی سے منسلک ایک اور دلچسپ کہانی ہے۔ بچپن میں کرکٹ کا بیاٹ پکڑنے پکڑنے سے پہلے متالی 'بھرت ناٹیم' سیکھ رہی تھیں۔ وہ ڈانسر بننا چاہتی تھیں۔ ملک و بیرون ملک مختلف جگہ اپنے رقص-فن کا مظاہرہ کر لوگوں کو اپنا دیوانہ بنانا چاہتیں تھی۔ متالی نے چھوٹی عمر سے ہی اسٹیج پر رقص کرنا شروع کر دیا تھا۔ اسٹیج پر ان کا رقص بہت پر کشش ہوا کرتا۔ کلاسیکی انداز میں اسٹیج پر اچھلتے، لہراتے ہوئے، جھومتے ہوئے متالی رقص کرتیں تو تمام ناظرین کا دل جیت لیتیں۔ متالی نے کرکٹ کھیلنا شروع کیا تو آہستہ آہستہ رقص سے دور ہونے لگیں۔ پھر بھی کسی طرح وقت نکال کر وہ رقص کی مشق کر ہی لیتیں۔ مگر جب وہ کرکٹ ٹورنمنٹ کھیلنے لگیں اور انہیں طویل دورے کرنے پڑتے، تب رقص کی مشق تقریبا نہ کے برابر ہو گئی۔ متالی کا رقص مشق چھوٹتا دیکھ کر ایک دن ان کی گرو نے ان کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا۔ گرو نے متالی سے کرکٹ یا پھر رقص دونوں میں سے ایک کو منتخب کرنے کو کہا۔ کافی سوچنے کے بعد متالی نے رقص کو چھوڑ کر کرکٹ کو ہی اپنی زندگی بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی گھڑی کو یاد کرتے ہوئے متالی کہتی ہیں

"فیصلہ مشکل تھا، لیکن میں کرکٹ سے اس طرح جڑ چکی تھی کہ کرکٹ کو چھوڑ کر کچھ اور کرنا میرے بس سے باہر کی بات ہو گئی تھی۔"

یہ پوچھے جانے پر کہ اگر وہ کرکٹر نہ ہوتیں تو کیا ڈانسر ہی ہوتیں، متالی نے کہا، "بالکل صحیح۔ میں کرکٹ نہ کھیل رہی ہوتی تو اسٹیج پر رقص ہی کرتی۔ میں رقاصہ ہی ہوتی۔ جب میں نے رقص کے بجائے کرکٹ کو منتخب کیا تب میں نے اپنے "ارنگیٹرم" (کلاسیکی رقص کی رسمی تربیت ختم ہونے کے بعد اسٹیج پر کیا جانے والا پہلا رقص مظاہرہ) سے صرف دو مرحلے دور تھی۔ "

اگرچہ متالی ڈانسر نہ بن پائی ہوں، لیکن اپنی شاندار بیٹنگ سے کرکٹ کے میدان پر گیند بازوں اور فلڈرس کو خوب ناچ نچاتی آ رہی ہیں۔

کرکٹ کے میدان پر متالی کی کامیابیاں کچھ اتنی بڑی ہیں کہ بھارت کی کوئی دوسری خاتون کرکٹر ان کی برابری کرتی نہیں دکھائی دیتی۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ متالی آج بھی اپنی کامیابی کا کریڈٹ اپنے والد دورائی راج کو ہی دیتی ہیں۔ متالی کے مطابق، ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ بہت کم عمر میں ہی بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنا لیں۔ متالی کو کرکٹر بنانے کے لئے والد نے کافی محنت کی تھی۔ باپ اور بیٹی کی مشترکہ محنت کا ہی نتیجہ تھا کہ متالی جب صرف 14 سال کی تھیں، انہیں بھارتی ٹیم کے لئے "اسٹیانڈ بائی" کھلاڑی بنا دیا گیا تھا۔ 16 سال کی عمر میں ہی متالی نے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلا۔ 26 جون، 1999 کو ملٹن كينس کے کیمبل پارک میں کھیلے گئے اس میچ میں متالی راج نے ریشما گاندھی کے ساتھ اننگز کی شروعات کی تھی۔ اس میچ میں متالی نے ناٹ آؤٹ 114 رنز بنائے۔ ریشما نے بھی 104 رنز کی شاندار سنچری اننگز کھیلی۔ ہندوستانی ٹیم یہ میچ 161 رنز سے جیت گئی۔ اور اس میچ سے ہندوستانی کرکٹ کو ایک نیا ستارہ مل گیا۔ آگے چل کر متالی خواتین کرکٹ کے ون ڈے فارمیٹ میں 5000 رنز بنانے والی پہلی ہندوستانی خاتون بنیں۔ اب تک صرف دو ہی کھلاڑی خواتین ون - ڈے کرکٹ میں 5000 سے زیادہ رن بنا پائی ہیں۔ متالی سے پہلے سی ایم ایڈورڈز نے ون ڈے میں 5000 رنز مکمل کئے تھے۔

متالی نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 2002 میں کھیلا۔ 14 سے 17 جنوری کے درمیان لکھنؤ میں کھیلے گئے اس میچ میں متالی صفر پر آؤٹ ہو گئیں۔ لیکن آگے چل کر وہ خواتین ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل سنچری لگانے والی پہلی کرکٹر بنیں۔ ویسے ایک نہیں بلکہ کئی ریکارڈ متالی کے نام ہیں۔

ایسا بھی بالکل نہیں ہے کہ متالی راج کا سفر ایک دم آسان، فکرسے مبرا اور کشیدگی سے پاک رہا ہے۔ متالی نے جب کرکٹ کھیلنا شروع کیا تھا ان دنوں بہت ہی کم لوگ جانتے تھے کہ خواتین بھی کرکٹ كھیلتی ہیں۔ ایک اور جہاں ملک میں کرکٹ کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی تھی، کرکٹ کا جادو لوگوں کے سر چڑھ کر بول رہا تھا، بہت سے لوگوں نے تو کرکٹ کو ہی اپنا مذہب مان لیا، وہیں دوسری جانب کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ خواتین بھی کرکٹ کھیلتی ہیں۔ اور عورتوں اور مردوں کا کھیل بالکل ایک جیسا ہے۔ اصول سارے ایک ہیں۔ میدان وہی ہیں۔ وہی چیلنج ہیں اور وہی گلا کاٹ مقابلہ۔

متالی بتاتی ہیں کہ جب انہوں نےہندوستانی ٹیم میں جگہ بنائ، انہیں خود یہ پتہ نہیں تھا کہ بھارت کی بڑی عمر کی عورت کرکٹر کون ہیں؟ وہ کیسی دکھتی ہیں؟ کیسا کھیلتی ہیں۔ ان کے نام کیا کیا ریکارڈ ہیں۔ سینئر ٹیم میں جگہ ملنے کے بعد ہی متالی کو اس وقت کی عظیم خاتون کرکٹرز - شانتا رنگاسوامی، ڈیانا ایڈلجی کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ یہ وہی وقت تھا جب ہندوستان میں تقریبا ہر گھر میں تقریبا تمام لوگ ہندوستانی مرد کرکٹ ٹیم کے ہر نئے پرانے کھلاڑی کے بارے میں جانتے تھے۔

متالی نے بتایا کہ ان دنوں خواتین کرکٹ کی اتنی حوصلہ افزائی بھی نہیں ہوتی تھی۔ ان دنوں جب خواتین کرکٹر ٹرین میں سفر کرتی تھیں، تو لوگ ان کھلاڑیوں کے بڑے کٹ بیگ دیکھ کر ان سے پوچھتے تھے کہ کیا وہ ہاکی کھیلنے جا رہی ہیں؟ جب ان لوگوں کو جواب ملتا کہ وہ کرکٹر ہیں اور کرکٹ کھیلنے جا رہی ہیں، تو لوگ حیران رہ جاتے۔ اتنا ہی نہیں لوگ خواتین کرکٹرز سے عجیب و غریب سوال پوچھتے مثلا - کیا لڑكياں بھی کرکٹ کھیلتی ہیں؟ کیا خواتین ٹینس بال سے کرکٹ کھیلتی ہیں؟ خواتین کے لئے کیا اصول مختلف ہیں؟

متالی کو اب بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب وہ لڑکوں کے ساتھ پریکٹس کرنے جاتیں تو لڑکے کافی سخت اور چبھنے والے فقرے کستے۔ لڑکے اکثر کہتے، ارے! لڑکی ہے۔ آہستہ سے گیند پھںکو ورنہ اسے چوٹ لگ جائے گی۔ مشکل حالات میں متالی نے کرکٹ کا انتخاب کیا۔ اپنے اب تک کے سفر میں کبھی بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ ہمت نہیں ہاری۔ ہر چیلنج کا سامنا کیا۔ مخالف حالات میں بھی اپنی قابلیت اور کامیابیوں سے خواتین کرکٹ کو ہندوستان میں قابل احترام بنانے میں بڑا اہم کردار نبھایا۔

متالی نے جب کرکٹ کھیلنا شروع کیا تھا، تب انہوں نے اپنے لئے کوئی بڑا مقصد نہیں رکھا تھا۔ ان کا ارادہ بھارتی کرکٹ ٹیم میں جگہ بننا تھا۔ جگہ بنانے کے بعد ان کا اگلا ارادہ اس جگہ کو پکا کرنا تھا۔ جگہ پکی کرنے کے بعد ان کا مقصد ٹیم کا "اہم کھلاڑی" بننا تھا۔ متالی نے ٹیم کا سب سے بڑا اور اہم کھلاڑی بننے کے لئے جی جان لگا دی۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر انہیں ٹیم میں بنے رہنا ہے اور وہ بھی اہم کھلاڑی کی طرح تو انہیں مسلسل اچھا مظاہرہ کنا پڑےگا۔ ہر بار ٹیم کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کرنا ضروری ہے۔

متالی کا رتبہ اتنا بڑھ گیا کہ انہیں بھارتی خاتون ٹیم کا کپتان بھی بنایا گیا۔ متالی کا کہنا ہے کہ کپتانی ہر کسی کو نہیں ملتی اور جو لوگ قسمت والے ہوتے ہیں، انہیں ہی کپتان بننے کا موقع ملتا ہے۔

متالی نے کہا،

'میں آہستہ آہستہ، قدم بہ قدم آگے بڑھی ہوں۔ اور جیسے جیسے میں آگے بڑھی ویسےویسے میری ذمہ داریاں بڑھیں اور مجھکو، ٹیم اور کھیل سے محبت کرنے والوں کی امیدیں بھی بڑھیں زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف ہدف بھی رہے۔ کھیل کی بہتری برقرار رکھنے کا چیلنج ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔'

3 مئی، 2016 کو ایک خاص ملاقات میں متالی راج نے اپنی زندگی کے بہت سے اہم پہلوؤں کے بارے میں بتایا۔ بہت سے مسائل پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کی۔ اس کرکٹ اکیڈمی میں جہاں متالی راج نے کرکٹ کھیلنا شروع کیا تھا، وہیں ہوئی ان سے خاص ملاقات کے دوران بات چیت میں سامنے آئے دیگر اہم اقتباسات یہاں پیش ہیں: -

تحریک و ترغیب: متالی کو آج بھی اپنے والد دورائے راج سے ہی ترغیب ملتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں،

'ڈیڈ کی وجہ سے ہی میں نے کرکٹ کھیلنا شروع کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ کم عمری میں بھارت کے لئے كھیلوں جب کبھی میں بہترین اسکور بناتی ہوں تو ڈیڈ کو فون کر بتاتی ہوں۔ ڈیڈ بہت خوش ہوتے ہیں۔ ڈیڈ کی یہی خوشی میرے لئے حوصلہ افزائی ہے۔ ڈیڈ کو خوش کر سکوں اسی خیال سے مجھے نئی تحریک ملتی ہے۔'

مصیبتوں سے نکالتی ہے ماں: متالی کی ماں کو کرکٹ کی اتنی سمجھ نہیں ہے، جتنی کہ والد کو۔ لیکن، ماں نے بھی متالی کا کیریئر بنانے میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماں نے متالی کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں ۔ زندگی کے تمام بڑے فیصلے متالی نے ماں کی سفارش پر ہی لئے ہیں۔ متالی بتاتی ہیں کہ جب کبھی وہ ذہنی طور پر پریشان ہوتی ہیں تو ماں کے صحیح مشورہ سے اپنی پریشانی دور کرتی ہیں۔ متالی کہیں بھی ہوں مسئلہ کے حل کے لئے وہ اپنی ماں کو فون کرنا نہیں بھولتیں۔

تنقید: 2013 میں جب متالی کی قیادت والی بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم "سوپر سکس" کے لئے بھی کوالیفائی نہیں کر پائی تھی، تب دورائے راج کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔ انہوں نے متالی کی جم کر تنقید کی تھی اور کچھ تلخ لفظ بھی کہے تھے۔ والد نے خود متالی سے کپتانی چھیننے کی کوشش کی تھی۔ کچھ لوگوں نے تو متالی کو کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا مشورہ تک دے دیا تھا۔

اس واقعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر متالی نے بتایا کہ ان کے والد ان کے سب سے بڑے نقاد بھی ہیں۔ اور یہ ضروری نہیں کہ ہر کوئی ان کی تعریف ہی کرے۔ انہوں نے اپنے والد کی تنقید میں بھی مثبت چیزوں کو ہی لیا اور آگے بڑھیں۔ متالی مانتی ہیں کہ ایک بڑا کھلاڑی بننے کے بعد ناقدین کا ارد گرد ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ناقدین کے نہ ہونے کی صورت میں پلیئر کے لاپرواہ ہونے کا خطرہ بن جاتا ہے۔ متالی نے مزید کہا، "بے سبب تنقید کرنے والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ آپ کسی کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ آپ کے کھیل کو پسند کرے۔ ہر کسی کو خوش بھی ہمیشہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔"

خواتین کرکٹ میں سیاست: متالی بے باک ہو کر یہ کہتی ہیں کہ بھارتی خواتین کرکٹ میں بھی سیاست ہوتی ہے۔ جس طرح کی سیاست دیگر شعبوں میں ہے ویسی ہی سیاست خواتین کرکٹ میں بھی ہوتی ہے۔ چونکہ میڈیا خواتین کرکٹ میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا ہے، اس وجہ سے سیاست کی خبریں باہر نہیں آ رہی ہیں۔ متالی نے سنسنی خیز انکشاف بھی کیا کہ گندی سیاست کی وجہ سے ہی بہت اچھی خاتون کھلاڑی بھارتی ٹیم میں جگہ نہیں بنا پاتیں۔ متالی کے مطابق، جو کھلاڑی ذہنی طور پر مضبوط ہوتے ہیں، وہ سیاست کا شکار ہونے سے خود کو بچا لیتے ہیں، لیکن جو کمزور ہوتے ہیں وہ اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

متالی مشورہ دیتی ہیں کہ ہر شخص خاص طور پر کھلاڑیوں کو ذہنی طور خود تو اتنا قابل بنا لینا چاہئے کہ سیاست کا ان پر کوئی اثر نہ پڑے۔

کامیابی کے معنی: متالی کی نظر میں مشکل ترین حالات میں مستحکم اور پرسکون رہ کر ہدف حاصل کرنا ہی کامیابی ہے۔ بطور کھلاڑی ان کا خیال ہے کہ مشکل حالت سے ٹیم کو ابارنا ہی کامیابی ہے۔ وہ کہتی ہیں،

'کپتان کے طور پر اگر میری ذاتی کارکردگی خراب بھی رہی اور پھر بھی میں اگر دوسرے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھا کر ان کی اچھی کارکردگی دے سکتی ہوں۔ کپتان کے طور پر میں اسے میری سب سے بڑی کامیابی مانوں گی۔'

اب تک کی سب سے بڑی کامیابی: "كنسسٹنسی" ہی میری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ میں نے ون ڈے فارمیٹ میں اگر 4 9 کے اوسط سے پانچ ہزار سے زیادہ رن بنائے ہیں تو یہ "كنسسٹنسی" کا ہی نتیجہ ہے۔

سچن تندولکر سے موازنہ پر: متالی کہتی ہیں، "جب لوگ مجھے خواتین کرکٹ کا تندولکر کہتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔ کرکٹ کو تندولکر کی شراکت بہت بڑی ہے۔ ان کی کامیابیاں بہت بڑی ہیں اور وہ عظیم کھلاڑی ہیں۔ ایسے بڑے کھلاڑی سے موازنہ کرنے پر خوشی ہوتی ہی ہے، لیکن میں چاہتی ہوں کہ لوگ مجھے میرے نام سے جانیں۔ لوگ مجھے میرے کھیل اور میری کامیابیوں کی وجہ سے پہچانیں۔

کامیابی کا منتر: محنت کے بغیر کامیابی نہیں ملتی۔ اگر لڑکیوں کو ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانی ہے تو سخت محنت کرنی پڑے گی۔ کامیابی کے لئے آپ کی ترجیحات طے کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ متالی کے مطابق، بہت سے لوگ اپنی ترجیحات طے نہیں کر پاتے۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ لوگوں کو صرف اور صرف اپنے ہدف پر توجہ کرنا چاہئے۔

متالی کے بارے میں کچھ اہم معلومات

متالی راج کی پیدائش 3 دسمبر، 1982 کو راجستھان کے جودھ پور میں ہوئی

خاندان حیدرآباد منتقل ہوا تو متالی بھی حیدرآباد کی ہی ہو گئیں

والد نے پہلے ایئر فورس میں کام کیا پھر بینک افسر ہو گئے

متالی کے کیریئر کے لئے ماں نے نوکری چھوڑ دی اور گھر خاندان کی ذمہ داری اٹھا لی

بچپن سے ہی متالی نے اپنے بھائی اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ پریکٹس کی

متالی جب صرف 14 ساہ کی تھیں، انہیں بھارتی ٹیم کے لئے "اسٹانڈ بائی" کھلاڑی بنا دیا گیا تھا

16 سال کی عمر میں ہی متالی نے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلا۔ 26 جون، 1999 کو ملٹن كينس کے کیمبل پارک میں کھیلے گئے اس میچ میں متالی راج نے ریشما گاندھی کے ساتھ اننگز کی شروعات کی تھی. اس میچ میں متالی نے ناٹ آؤٹ 114 رنز بنائے

ریشما نے بھی 104 رنز کی شاندار سنچری اننگز کھیلی۔ بھارتی ٹیم یہ میچ 161 رنز سے جیت گئی.

متالی نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 2002 میں کھیلا۔ 14 سے 17 جنوری کے درمیان لکھنؤ میں کھیلے گئے اس میچ میں متالی صفر پر آؤٹ ہو گئیں۔ لیکن آگے چل کر وہ خواتین ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل سنچری لگانے والی پہلی کرکٹر بنیں

2010، 2011 اور 2012 یعنی تین مسلسل سال متالی آئی سی سی ورلڈ رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر رہیں۔ ایسا کرنے والی بھی وہ پہلی بھارتی خاتون ہیں

متالی نے بطور کپتان بھی انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کئی بار بھارت کو تاریخی جیت دلائی ہے۔

متالی نہ صرف بھارت کی سب سے زیادہ کامیاب بلّے باز ہیں بلکہ سب سے زیادہ کامیاب کپتان بھی ہیں۔

متالی نے ٹیسٹ، ون ڈے اور 20-20 یعنی تینوں فارمیٹ میں بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کپتانی کی ہے

متالی کو ان کامیابیوں اور کرکٹ میں شراکت کے لئے بھارت کی حکومت "ارجن ایوارڈ" اور "پدم شری" سے بھی نواز چکی ہے

متالی خواتین کی طاقت کی علامت بن چکی ہیں اور ان کی کامیابی کی جو کہانی ہے وہ کئی لوگون کے لئے تحریک اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے۔

ایک نظر اب تک کے ان اعداد و شمار پر 3 مئی، 2016 تک

متالی نے 164 ایک روزہ میچ کھیلے ہیں۔ ان میں 149 اننگز میں 49 کی اوسط سے 5301 رنز بنائے ہیں

وہ 42 بار ناٹ آؤٹ رہی ہیں، جوکہ اپنے آپ میں ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ متالی نے ون ڈے فارمیٹ میں 5 سنچریاں بھی بنائی ہیں

متالی نے 59 ٹوئنٹی-ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں اور 34.6 کی اوسط سے 1488 رنز بنائے ہیں

متالی نے 10 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 51 کی اوسط سے 16 اننگز میں 663 رنز بنائے، ان کا سب سے زیادہ اسکور 214 ہیں۔

....................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مستحکم اور جامع اداروں کے حامی... منور پیر بھائی

'صفر' سے شروع ہوا بلندی کا سفر... ڈاکٹر خلیل صدیقی کی حیرت انگیز کامیابیاں

جانبازی کی اعلیٰ مثال ... مالیگاؤں کے شکیل تیراک

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories

Stories by ARVIND YADAV