بیوی کے چھوڑنے کے بعد بھی نہیں چھوڑا غریبوں کاساتھ

0

300بے سہارااور لاچار لوگوں کو دیاسہارا ...

تقریباً پانچ ہزار لاوارث لاشوں کی اداکیں آخری رسوم ...

آٹھ سال سے کررہے ہیں غریب اور لاچار لوگوں کی مدد ...

خواجہ میر درد ؔنے کہاہے ؎

دردِ دل کے واسطے پیداکیاانسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

مذکورہ شعر بالکل صادق آتاہے دہلی میں رہنے والے 47سالہ روی کالراپر،جو گذشتہ آٹھ برسوں سے غریب ،لاچار،بے سہارااور بیمارلوگوں کی مدد کررہے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اس دنیامیں کوئی نہیں ہے یا پھر ان کے اپنوں نے ان کو اپنے رحم وکرم پر چھوڑ دیاہے۔ تقریباً 300سے زیادہ لوگوں کو پناہ دے رہے روی اب تک تقریباً 5000سے زائد لاوارث لاشوں کی آخری رسوم اداکرچکے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ کبھی انڈین ایمیوچر تائیکانڈوفیڈریشن کے صدر رہ چکے روی نے زندگی میں کافی نشیب وفراز دیکھے۔ بچپن میں جہاں ان کے پاس اسکول جانے کے لئے بس کا کرایہ تک نہیں ہوتاتھاوہاں جوانی کے دنوں میں ان کی محنت کے بل پر دبئی،جنوبی افریقہ اور کئی دوسرے مقامات پر ان کے کئی دفاتر تھے۔ لیکن ایک واقعے نے ان کے زندگی ایسی بدلی کہ وہ یہ سب چھوڑکر لوگوں کی خدمت میں لگ گئے۔

روی کالراکے ماں باپ دونوں سرکاری ملازم تھے۔ ان کے والد تو دہلی پولیس میں انسپکٹر تھے۔ والد کے دوش ِناتواں پر کئی گھریلو ذمہ داریاں تھیں اس وجہ سے ان کا بچپن کافی مشکلوں میں گذرا۔ روی نے یوراسٹوری کو بتایا:

” کئی بار میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے کہ اسکول جانے کے لئے بس سے سفر کرسکوں ۔ تب میں کئی کئی کلومیٹر دور تک پیدل جاتاتھا۔ حالاں کہ میں پڑھائی میں بہت اچھانہیں تھا،لیکن بہت کم عمری میں مارشل آرٹ انسٹرکٹر بن گیا۔ مجھے مارشل آرٹ کے لئے فیلو شپ بھی ملی،جس کی ٹریننگ کے لئے میں جنوبی کوریابھی گیا۔ وہاں میں نے اس کھیل کے تعلق سے کئی بین الاقوامی ڈگریاں حاصل کیں ۔ اس کے بعد جب میں ہندوستان لوٹا تو مارشل آرٹ سکھانے کے لئے اسکول قائم کیا اور کچھ دنوں بعدانڈین ایمیوچرتائیکانڈوفیڈریشن کا چیئرمین بھی بنا۔ “

اپنی محنت کے بل بوتے انھوں نے تقریباً 200 بلیک بیلٹ کھلاڑیوں کو تیارکیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے مختلف پولیس بٹالین اور مسلح افواج کو بھی مارشل آرٹ کی تربیت دی۔ اپنے کھیل کی بدولت یہ اب تک 47ممالک کا سفرکرچکے ہیں ۔

اپنے کھیل کے ساتھ انھوں نے ایکسپورٹ اور ٹریڈنگ کے کاروبار میں بھی اپنا ہاتھ آزمایا۔ اس لئے ان کے پاس ایک دور میں کافی دولت بھی ہوگئی تھی۔ دبئی ،جنوبی افریقہ اور دیگر متعدد مقامات پر ان کے آفس تھے۔ اس کے باوجود کبھی بھی انھوں نے ایمانداری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ زندگی عیش وآرام سے گذر رہی تھی۔ لیکن ایک دن اچانک انھوں نے سڑک پر دیکھاکہ ایک غریب بچہ اور اس کے بغل میں بیٹھا کتاایک ہی روٹی کھارہے تھے۔ یہ دیکھ کر ان کی زندگی میں ایساانقلاب آیا کہ انھوں نے اپناکاروبار چھوڑ کر غریب اور بے سہارالوگوں کی خدمت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس فیصلے کی ان کی بیوی نے مخالفت کی اور وہ ان کو چھوڑکر چلی گئی۔ اہلیہ کے اس فیصلے سے ان کے پائے استقامت میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی بلکہ ان کے ارادے مزید مضبوط ہوگئے۔

روی نے سب سے پہلے دہلی کے بسنت کنج علاقے میں کرائے پر ایک جگہ لی اور اس کے کچھ برسوں بعد گڑگاؤں میں ایسے لوگوں کو رکھا،جن کا کوئی اپنا نہیں ہے یا جو اپنا علاج نہیں کراپارہے ہیں ۔ ایسے لوگ بھی تھے جن کو اپنوں نے چھوڑدیاتھا۔ روی ان لوگوں کی شب وروز خدمت کرتے ہیں ۔ ابتدامیں روی نے جہاں ان لوگوں کو رکھاوہاں بزرگوں کے رہنے کے لئے ایک جگہ تیارکی اور ناری نکیتن بھی قائم کیا۔ اس کے علاوہ جو غریب بچے تھے یا بھیک مانگنے کا کام کرتے تھے ان کے لئے اسکول کا بندوبست کیا۔ اس طرح ایک دو لوگوں سے شروع ہوا ان کا یہ سفر اب تک بدستور جاری ہے۔ اس دوران مقامی لوگوں کے علاوہ پولیس نے بھی ان کو پریشان کیا۔ روی کے مطابق:

” پولیس والے مجھے رات رات بھر تھانے میں بٹھاتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے کڈنی ریکٹ شروع کیاہے۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور لوگوں کی خدمت میں لگارہا۔ “

روی بتاتے ہیں کہ وہ سڑک اور اسپتال میں مرنے والے تقریباً پانچ ہزار لاوارث لوگوں کی آخری رسوم اداکرچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ تقریباً ایک ہزار لوگ جو کبھی ان کے ساتھ تھے اور ان کی بیماری یا دوسری وجہ سے موت ہوگئی ان کی بھی آخری رسوم ادا کرچکے ہیں ۔ لوگوں کے تئیں ان کے جذبہ ایثار کے مد نظر آہستہ آہستہ عام لوگوں کے ساتھ پولیس ، سماجی کارکنان اور دوسرے لوگ بھی ان کی مدد کے لئے آگے آنے لگے۔ روی بتاتے ہیں :

” دہلی کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں ایسے بزرگ مریض ہوتے ہیں جن کے اپنے وہاں ان کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ ایسی حالت میں اسپتال ہم سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور ہم ان لوگوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں ۔ “

وہ بتاتے ہیں کہ آج ان کے آشرم میں تقریباً تین سو بزرگ رہتے ہیں ، ان میں سو سے زائد عورتیں ہیں ۔ عورتوں کو ناری نکیتن میں رکھاجاتاہے۔ ان عورتوں میں کئی آبروریزی کی شکارہیں اورکچھ بیماراور بزرگ خواتین ہیں ۔

روی نے ایسے لوگوں کی مدد کے لئے ہریانہ کے بندھواڑی گاؤں میں ’ د ارتھ سیویرفاؤنڈیشن ‘ قائم کیا۔ یہاں تقریباً تین سو مرد وخواتین رہ رہے ہیں ۔ یہاں رہنے والے لوگوں میں کئی ذہنی طورسے معذور ہیں ۔ کچھ ایچ آئی وی اور کینسر جیسی سنگین بیماریوں میں مبتلاہیں ۔ ان کے علاوہ بہت سارے سابق جج،ماہرین تعلیم اوروکیل ہیں جن کو اپنوں نے یہاں چھوڑدیا۔ مریضوں کی سہولت کے لئے یہاں تین ایمبولنس کا نظم ہے۔ اس کے علاوہ دہلی کے سرگنگارام اسپتال کے ساتھ انھوں نے تال میل کیاہے تاکہ کسی ہنگامی حالت میں مریضوں کا علاج کیاجاسکے۔ اس کے علاوہ مختلف اسپتالوں کے ڈاکٹر یہاں آکر کیمپ لگاتے ہیں ۔ یہاں 24گھنٹے ڈسپنسری کا انتظام ہے۔ یہاں رہنے والوں کی تفریح کا بھی خاص خیال رکھاجاتاہے۔ اس لئے یہ ہر سال دہلی کے راج پتھ پرہونے والی یوم جمہوریہ پریڈ کو دکھانے کے لئے کافی لوگوں کو لے جاتے ہیں ۔ وقتاً فوقتاًان لوگوں کو فلم بھی دکھائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ یہاں رہنے والے بزرگوں کو متھرا،برنداون اور دوسرے تیرتھ استھانوں کی سیر کرائی جاتی ہے۔ روی نے اس جگہ کا نام رکھاہے ’گروکل‘۔ گروکل میں سبھی تیوہارمنائے جاتے ہیں ۔ گذشتہ آٹھ برسوں سے بے لوث جذبے سے خدمت کررہے روی کے اس کام میں ہاتھ بٹانے کے لئے 35لوگوں کی ایک ٹیم ہے۔ 47سالہ روی کالراکا اب ایک ہی خواب ہے کہ وہ ایک ایسی جگہ بنائیں جہاں غریب ،لاچار،بیماراور بے سہارالوگ مفت میں رہ سکیں اورجہاں اسپتال کی سہولت بھی ہو۔

Website : www.earthsaviours.in

قلمکار : ہریش بشٹ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Harish Bisht

Translation by : Mohd. Wasiullah Husaini