18سال کی عمر میں شروع کیا اسٹارٹپ

0

ماحول کی حفاظت میں مددگار ٹايرلیسلی

محفوظ طریقے سے کرتے ہیں ٹائروں کا نپٹارا

اسٹارٹپ کے اس دور میں آج بڑے تو بڑے، بچے بھی اپنا نام روشن کر رہے ہیں۔انوبھو وادھوا ایسے ہی ایک ذہین لڑکا ہے۔ جس عمر میں بچے اپنے کیریئر کے بارے میں سوچ بھی نہیں پاتے اس عمر میں اس نے اپنا اسٹارٹپ شروع کر دیا ہے۔ 16 سال کے انوبھو پاتھوے ورلڈ اسکول اراولی، گڑگاؤں کی کلاس 11 ویں کے طالب علم ہیں۔ انوبھو نے اپنے کام کا آغاز 2012 میں 'ٹیك ایپٹو' کے ساتھ کیا اور اس کے بعد دسمبر 2015 میں انہوں نے 'ٹايرلیسلی' کی بنیاد رکھی اور جنوری 2016 میں انوبھو نے اس کمپنی کی شرعات بھی کر دی۔

اس کمپنی کو شروع کرنے کے بارے میں انوبھو نے يورسٹوری کو بتایا۔

'جب ایک دن میں اسکول سے گھر واپس آ رہا تھا تو سڑک پر پرانے ٹائر کو بکھرے ہوئے اور جلتے ہوئے دیکھا تو مجھے برا لگا، کیونکہ اس ماحول میں سلفر ڈائی آکسائیڈ بڑھ رہا تھا، جس کی وجہ سے ہوا آلودہ ہو رہی تھی۔ اس واقعہ کے بعد جب میں گھر لوٹا تو سب سے پہلے گوگل میں تلاش کیا کہ پرانے ٹائر کو کس طرح تباہ کیا جا سکتا ہے، لیکن مجھے اس وقت مایوسی ہاتھ لگی جب میں نے پایا ملک میں ایسا کوئی موثر طریقہ نہیں ہے۔ اسی وقت میں نے فیصلہ کیا کیا کہ اس شعبے میں کچھ کام کرنا ضروری ہے۔

ٹايرلیسلی پرانے ٹائر کو جمع کرتی ہے اور محفوظ طریقے سے ان کا خاتمہ کرتی ہے۔ ٹايرلیسلی کے دو اہم مقاصد ہیں مٹیريل بحالی اور توانائی وصولی۔ ٹايرلیسلی کو اگر آپ پرانے ٹائر دینا چاہتے ہیں تو کوئی بھی ان کی ویب سائٹ پر جاکر اپنا میسج چھوڑ سکتا ہے۔ جس کے بعد بتائی جگہ سے یہ پرانے ٹائر کو اٹھانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ سروس وہ فی الحال دہلی اور این سی آر میں دے رہے ہیں، جلد ہی اپنی خدمات کی توسیع ملک کے 12 دیگر بڑے شہروں میں کرنے والے ہیں۔

پرانے ٹائر کو جمع کرنے کے لئے انہوں نے گڑگاؤں میں ایک گودام لیا ہوا ہے، اور ان کے پاس ایک وین ہے جو مختلف جگہوں سے ٹائر کو جمع کرنے کا کام کرتی ہے۔ ٹايرلیسلی 5 لوگوں کے گروپ میں کام کر رہی ہے، جلد ہی یہ اس کی بھی توسیع کریں گے۔ انوبھو کا کہنا ہے کہ وہ جب لوگوں سے پرانے ٹائر لیتے ہیں تو اس کے بدلے کوئی رقم تو ادا نہیں کرتے لیکن ٹائر لانے لے جانے کی سہولیات مفت میں دیتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ 1 ٹائر ہو یا 100 ٹائر یہ ہر جگہ آپ کی خدمت کرتے ہیں۔

اب تک پرانے ٹائروں کا استعمال چینی کی صنعت اور اسی طرح کے بہت سے دوسری صنعتوں میں کافی استعمال ہوتا ہے۔ جس سے آلودگی پھیلتی ہے ہوتا ہے، ٹايرلیسلی ہوا کو آلودہ کئے بغیر ٹائر کو ڈسپوز کر ان کا تیل، گریس اور دوسری مصنوعات بغیر آلودگی کے نکالتی ہے۔ کمپنی میں ابتدائی سرمایہ کاری کے تجربے نے اپنے پرانے وینچر سرمایہ کاروں سے ملی رقم کو لگا کر کیا ہے، کمپنی کی آمدنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انوبھو کہتے ہیں کہ ویب سائٹ میں آنے والے اشتہارات ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہوں گے۔

گيارہوی جماعت میں پڑھنے والے انوبھو سے جب یور اسٹوری نے پوچھا کہ کس طرح وہ تعلیم کے ساتھ اس کام کے لئے وقت نکال لیتے ہیں تو ان کا جواب تھا،

"میں نے روزانہ کام کے لئے اپنا وقت مقرر کیا ہے۔ تو میں نے تعلیم کے ساتھ ٹايرلیسلی کے لئے بھی وقت نکال لیتا ہوں۔ "

ان کا کہنا ہے کہ وہ دن بھر تعلیم حاصل کرنے کے بعد زیادہ تر شام کے وقت اپنے اس وینچر پر توجہ دیتے ہیں۔ اس طرح نہ پڑھائی چھوٹتی ہے اور نہ ہی ان کے اس کام میں اثر پڑتا ہے۔ ان کے اس کام میں سب سے زیادہ مدد ان کے والدین کرتے ہیں جو باقاعدہ طور پر اپنے کام کو لے کر ان کا حوصلہ بلند بنائے رکھتے ہیں۔

ان کی کوشش رہتی ہے کہ وہ مختلف کمیونٹیز کی مدد سے لوگوں کو ٹائر جلانے سے ہونے والے نقصان سے باِخبر کریں۔ حال ہی میں شروع کئے اپنے اس وینچر کے بارے میں انوبھو کا کہنا ہے کہ وہ فروری کے آخر تک کم از کم ایک ہزار بیکار ٹائر جمع کرنا چاہتے ہیں اور ان کی منصوبہ اپنے اس کاروبار کو ملک بھر میں پھیلانے کا ہے۔

قلمکار : ہرش بشٹ

مترجم : زلیخہ نظیر