بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ، اسکیم کے خواب میں رنگ بھررہی ہے بنارس کی ایک بیٹی

0

اپنے اسپتال میں بیٹی کی ولادت پر مفت علاج کرتی ہیں ڈاکٹر شِپرا

شہر کی 6 بیٹیوں کو اپنے خرچ سے دلارہی ہیں تعلیم

بیٹی بچاؤ مہم کے لئے کئی اعزازات مل چکے ہیں

بہت پرانی کہاوت ہے کہ جہاں بیٹیوں، خواتین اور بچے پیدا کرنے والیوں کی عزت ہوتی ہے اس سماج کا ترقی کرنا طے ہے۔ لیکن اس معروف کہاوت کا علم ہونے کے باوجود سماج ایسا نہیں کرتا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں اس سمت لگاتار کچھ کوششیں جاری ہیں اور بیٹیوں کو ہر لحاظ سے بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس مہم کا سہرا وزیرِ اعظم کی بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم کو جاتا ہے۔ بیٹیوں کو بچانے کے لئے وزیرِ اعظم نے پورے ملک میں ایک مہم چھیڑ رکھی ہے۔ گاؤں گاؤں ، شہر شہر اس مہم کو ایک تحریک کی شکل دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

بنارس میں اسی مہم کی قیادت کر رہی ہیں ایک خاتون ڈاکٹر جن کا نام ہے 'شِپرا دھر'۔ شپرا دھر کے لئے بیٹیوں کو بچانا ہی واحد مقصد ہے۔ یہی ان کا مشن بھی ہے جو ایک جنون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اپنے مشن کو پورا کرنے کے لئے شپرا دھر جی جان سے اس کام میں جُٹی ہوئی ہیں۔ ملک کے موقر ادارے اور بنارس کی شان کہی جانے والی بنارس ہندو یونیورسٹی سے ایم۔ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکی شپرا دھر کے لئے ڈاکٹری، پیسہ کمانے کا پیشہ نہیں ہے بلکہ سماج اور بیٹیوں کی خدمت کرنے کا بہترین موقع ہے۔

شپرا دھر نے ڈاکٹری کی تعلیم پوری کرنے کے بعد طے کیا کہ وہ کسی سرکاری ملازمت کے بجائے خو د اپنا اسپتال شروع کریں گی۔ لیکن دیڑھ برس قبل ان کے اسپتال میں ایسا کچھ ہوا جس نے ان کے جینے کے انداز اور نظرئے کو یکسر تبدیل کردیا۔ شپرا دھر نے یوراسٹوری کو بتایا،

لگ بھگ دیڑھ برس قبل ایک ادھیڑ عمر کی خاتون اپنی حاملہ بہو کے ساتھ میرے اسپتال پہنچی۔ علاج کے دوران بہو نے ایک خوبصورت بیٹی کو جنم دیا۔ لیکن بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والی دادی کے دل میں اس بیٹی کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ خوشی کے بجائے وہ خاتون غصے سے تمتمائی ہوئی تھی۔ گھر میں بیٹی پیدا ہونے کی ٹیس اس خاتون کے ذہن میں کچھ اس قدر تھی کہ اس نے اپنی بہو کے ساتھ ساتھ مجھے بھی جم کر طعنے مارے۔"

اس خاتون کے طعنوں نے اسپتال کی تصویر بدل دی۔ اس واقعے کے بعد ڈاکٹر شپرا نے اسپتال میں پیدا ہونے والی سبھی بیٹیوں کا علاج مفت کرنے کی ٹھان لی۔ تب سے لے کر اب تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ صرف بیٹیوں کا علاج ہی مفت نہیں کرتیں ڈاکٹر شپرا بلکہ وہ 6 لڑکیوں کی تعلیم کا مکمل خرچ بھی اُٹھارہی ہیں۔ لڑکیوں کو بہتر تعلیم دلانے کے لئے شپرا ، آئندہ دنوں میں ایک اسکول بھی شروع کرنے کا منصوبہ بنارہی ہیں تاکہ ہر غریب اور بے سہارا بیٹی پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے۔ شپرا کی یہ مہم شہر کے لوگوں کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔ شپرا کے اس نیک کام میں مدد کے لئے کئی ادارے بھی آگے آرہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اب ان کے اسپتال میں آنے والے لوگوں کی سوچ بھی کافی بدل چکی ہے۔ اسپتال پہنچنے والی لیلاوتی کہتی ہیں،

"اب لڑکا ہو یا لڑکی، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر بِٹیا پیدا ہوئی تو اسے میڈم شِپرا کی طرح ڈاکٹر بناؤں گی۔"

شپرا اب ان بیٹیوں کے لئے کام کرتی ہیں جنہیں دنیا میں قدم رکھتے ہیں دھتکارا جاتا ہے، جن کے پیدا ہونے پر جشن نہیں، ماتم منایا جاتا ہے۔ اب تک ان کے اسپتال میں کُل 90 خوش نصیب بیٹیوں نے جنم لیا ہے اور ڈاکٹر شپرا نے سبھی بیٹیوں کا علاج مفت کرکے ان کے خاندان کے لوگوں کو ایک بڑا تحفہ دیا ہے۔

اگر شپرا بیٹیوں کے لئے مہم چلارہی ہیں تو اس کے پسِ پشت ان کے شوہر منوج شری واستو ہیں جو خود ایک ڈاکٹر ہیں۔ اپنی بیوی پر فخر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں،

"سماج میں حاشئے پر جاچکی نصف آبادی کو سہارے کی نہیں بلکہ اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ بیٹیوں کو بچانے کے لئے سماج میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے اور میری بیوی اسی تبدیلی کی علامت بن کر اُبھری ہے۔"

بیٹیوں کو بچانے کے لئے جاری اس مہم نے ڈاکٹر شِپرا کو نئی پہچان دی ہے ۔ شہر کی بیٹیوں کے لئے شپرا ایک نئے امکان کی شکل میں سامنے آئی ہیں۔ یقیناً ڈاکٹر شپرا کی اپنی حدود ہیں لیکن بیٹیوں کے لئے کئے جانے والے ان کے کام کو لے کر ان کی وہ خواہشات لامحدود ہیں جن کی تکمیل کے لئے وہ کام کئے جارہی ہیں۔ ان کی یہ چھوٹی سی کوشش سماج کے لئے ایک آئینہ ہے۔ ان لوگوں کے لئے ایک نظیر ہے جن کے لئے بیٹیاں ایک بوجھ ہوتی ہیں۔

تحریر: آسوتوش سنگھ

مترجم : خان حسنین عاقبؔ