جنہیں اپنوں نے چھوڑ دیا، ان کو رتناکر پوار نے اپنایا اور بنایا ڈاکٹر، انجینئر، وکیل

آج ڈاکٹر رتناکر ان بچوں کی ماں بھی ہیں اور باپ بھی ۔ تبھی تو یہ صبح خود ہی بچوں کو اٹھاتے ہیں ان کو تیار کرتے ہیں، ان کا لنچ پیک کرتے ہیں اور اسکول بھیجتے ہیں۔ جن بچوں کی عمر اسکول جانے کے قابل نہیں ہوئی ہے ان کے ساتھ یہ دن بھر کھیلتے ہیں، ان سے بات کرتے ہیں، ان کو کھانا کھلاتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ڈاکٹر رتناکر ان بچوں کی نگہداشت و غذائیت بغیر کسی سرکاری مدد کے کر رہے ہیں۔ 

0

کبھی آپ نے ان نوزائیدہ بچوں کے بارے میں سوچا کہ ان کی کیا غلطی ہوتی ہے جن کو پیدا کرتے ہی ان کے ماں باپ گندگی کے ڈھیر میں، دریا یا تلاب میں مرنے کے لیے پھینک دیتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اس طرف توجہ تک نہیں دیتے، لیکن ایک شخص نے نہ صرف ایسے نوزائیدہ بچوں کے بارے میں سوچا، بلکہ ان بچوں کو بڑا کرنے اور پڑھانے لكھانے کے لئے اپنا جمع جمایا ڈاکٹری کا پیشہ تک چھوڑ دیا۔ آج 65 سال کے رتناکر پوار ایسے ہی نوزائیدہ بچوں کو بڑا کر رہے ہیں۔ تبھی تو ان میں سے کئی ڈاکٹر، انجینئر، ایڈوکیٹ اور دوسرے بڑے عہدوں تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے ماں باپ نے پیدا ہوتے ہی ان کو دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ گزشتہ 26 سالوں سے 'آشیرواد سیوادھام ٹرسٹ' چلا رہے ڈاکٹر رتناکر پوار اب تک قریب 80 بچوں کی زندگی سوار چکے ہیں۔

ڈاکٹر رتناکر پوار کبھی شہر کے نامی گرامی ڈاکٹر ہوا کرتے تھے۔ تب مہاراشٹر کے ناسک شہر میں ان کے اپنے دو ہسپتال تھے اور وہ خود ایک پیرا میڈیکل کالج میں پرنسپل تھے۔ لیکن ڈاکٹر رتناکر پوار کی زندگی میں اس وقت تبدیلی آئی جب وہ 38 سال کے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو كچھ وجوہات سے پیدا ہوتے ہی بچوں کو پھینک دیتے ہیں۔ جبکہ دنیا میں جنم لینے والے ان بچوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر رتناکر کے مطابق، "میں اکثر صبح گوداوری دریا کے پاس گھومنے جایا کرتا تھا تو دیکھتا تھا کہ کئی بار وہاں سے نوزائیدہ بچوں کو نکالا جاتا تھا۔ تب میں محسوس کرتا تھا کہ کیوں یہ بچے کچھ گھنٹوں کے لیے دنیا میں آئے ہیں؟ اس لیے میں نے سوچا کہ مجھے ایسے بچوں کے لئے جینا ہے۔ ان کو دنیا میں جینے کے قابل بنانا ہے۔ "

ڈاکٹر رتناکر کہتے ہیں کہ ایک طرف لوگ مندر بنواتے ہیں، ڈسپنسری بناتے ہیں، دھرم شالہ بناتے ہیں، اسکول چلاتے ہیں مگر ایسے بچوں کے لئے کوئی کچھ نہیں کرتا۔ جبکہ ایسے بچوں کو بھی جینے کا حق ہوتا ہے۔ تبھی تو ڈاکٹر رتناکر نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے جو ہسپتال بنایا تھا ان کو انہوں بچوں کے خاطر کرایہ پر دے دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے ڈاکٹری پیشے سے خود کو الگ کر لیا ہے، تاکہ وہ ان بچوں پر مکمل توجہ دے سکیں۔ ڈاکٹر رتناکر کا کہنا ہے، "ان بچوں کو بڑا کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے، وہ تو بس محبت کے بھوکے ہوتے ہیں۔ تو میں آشرم میں رہتا ہوں جبکہ میری بیوی بھی ڈاکٹر ہے اور وہ ناسک میں پریکٹس کرتی ہے تو گھر کا خرچ وہ ہی چلاتی ہیں۔ "

ڈاکٹر رتناکر نے اپنے اس کام کا آغاز سال 1990 سے کیا۔ تب انہوں جو پہلا بچہ گود لیا تھا اسے دنیا آج ڈاکٹر دلیپ کے نام سے جانتی ہے۔ اسی طرح اجے نام کا ایک بچہ آج انجینئر ہے، اور دوسرے بہت سے بچے بھی اسی طرح ڈاکٹر رتناکر کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ ڈاکٹر رتناکر کی کوششوں کا ہی اثر ہے کہ ان کے پاس پرورش پانے والے بچے نہ صرف ڈاکٹر اور انجینئر ہیں بلکہ کوئی وکیل بن چکا ہے تو کوئی ہوٹل مینجمنٹ کا كورس کر رہا ہے۔ قریب 26 سال پہلے ایسے بچوں کو گود لینے کا ڈاکٹر رتناکر کا شروع ہوا سفر آج بھی جاری ہے۔ وہ اب تک تقریبا 80 بچوں کی زندگی سوار چکے ہیں، ان میں سے 21 بچے آج کے ان بنائے 'آشیرواد سیوادھام ٹرسٹ' میں رہتے ہیں۔ ان میں 16 لڑکیاں اور 5 لڑکے ہیں۔ آشرم میں رہنے والے بچوں میں سب سے چھوٹی بچی سوا ماہ کی ہے، جبکہ سب سے بڑا بچہ 18 سال کی عمر کا ہے۔

'آشیرواد سیوادھام ٹرسٹ' ناسک کے پاس ربكیشور روڈ پر واقع ہے۔ یہ آشرم قریب 5 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔ آشرم میں نہ صرف بچوں کے رہنے کا انتظام ہے بلکہ کھیل کے میدان، مندر، میڈٹیشن ہال کے علاوہ پڑھنے کےلئے الگ سے انتظام ہے۔ اس کے علاوہ آشرم کے اندر بچوں کو ووکیشنل ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ آشرم میں رہنے والے 21 بچوں میں سے 17 بچے مختلف اسکولوں میں پڑھنے کےلئے جاتے ہیں جبکہ 4 بچے ایسے ہیں جن کی عمر اب تک اسکول جانے والی نہیں ہوئی ہے۔ ڈاکٹر رتناکر کے مطابق، "ہمارے کچھ والینٹير ہیں جو ان بچوں کو یہاں پر لے کر آئے ہیں، جبکہ کچھ بچوں کے بارے میں لوگوں نے فون پر اطلاع دی جس کے بعد میں خود ان کو آشرم تک لے کر آیا۔"

آج ڈاکٹر رتناکر ان بچوں کی ماں بھی ہیں اور باپ بھی ۔ تبھی تو یہ صبح خود ہی بچوں کو اٹھاتے ہیں ان کو تیار کرتے ہیں، ان کا لنچ پیک کرتے ہیں اور اسکول بھیجتے ہیں۔ جن بچوں کی عمر اسکول جانے کے قابل نہیں ہوئی ہے ان کے ساتھ یہ دن بھر کھیلتے ہیں، ان سے بات کرتے ہیں، ان کو کھانا کھلاتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ڈاکٹر رتناکر ان بچوں کی نگہداشت و غذائیت بغیر کسی سرکاری مدد کے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، "میں کچھ نہیں کر رہا جو کر رہا، وہ اوپر والا کر رہا ہے۔ کیونکہ پیدائش بھی خدا دیتا ہے، پھینک کرنے کے لئے خدا بولتا ہے، یہاں بھی خدا کی مدد سے ہی بچے پہنچ پاتے ہیں۔ ہم کچھ نہیں کرتے۔ ہمارا صرف نام ہے۔ "

آشرم میں بچوں کو کتابی علم کے ساتھ ساتھ كمپيوٹر کی ٹریننگ دی جاتی ہے، آشرم میں پروجیکٹر کا بندوبست ہے، اس کے علاوہ یہاں پر ایک لائبریری بھی ہے۔ ڈاکٹر رتناکر کے مطابق یہاں رہنے والے ہر بچے کو ہر کام ضرور سیکھنا ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگر کسی بچے کو موسیقی سیکھنے میں دلچسپی نہیں ہے تو بھی اسے وہ کلاس ضرور لینی ہوتی ہے۔ اسی طرح یہاں رہنے والے ہر بچے کو کھانا پکانا آتا ہے۔ ان سب کاموں کے لئے دن اور وقت پہلے طے کیا ہوا ہے۔ آشرم کی بلڈنگ میں 6 مختلف ہال ہیں جبکہ بڑے بچوں کے کاٹیج بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ 10 افراد آشرم میں کھانا پکانے سے لے کر صفائی اور دوسرا کام کاج سنبھالتے ہیں۔

ڈاکٹر رتناکر کے اپنے دو بچے ہیں۔ ان کا بیٹا انجینئر ہے اور بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔ اب ان کی کوشش ہے کہ اپنے اس آشرم میں ایسے بوڑھے بزرگوں کے رہنے کا انتظام کریں، جن کو ان کے اپنوں نے چھوڑ دیا ہے۔ تاکہ یہاں رہنے والے بچوں کو دادا دادی کی محبت مل سکے اور ان بزرگوں کو پوتے پوتیوں کی محبت مل جائے گی۔ ڈاکٹر رتناکر اپنے آشرم میں صرف نوزائیدہ بچوں کو ہی لاتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کی دنیا یہیں سے شروع ہوتی ہے جبکہ بڑے بچے پرانی یادوں سے باہر نہیں نکل پاتے اور وہ ایسے ماحول میں زیادہ گھل مل نہیں پاتے۔ اس لیے ان کا سارا دھیان نوزائیدہ بچوں پر ہوتا ہے۔ اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ان کے اشرم کو بجلی، پانی، صحت، تعلیم جیسے مسئلے پر آئے دن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کے باوجود وہ یہ کام خوشی خوشی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر رتناکر کا کہنا ہے، "یہ بچے ہی میری زندگی ہیں، آگے جو نئے بچے آئیں گے ان کو پڑھانا لکھانا ہے اور ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔ بڑے بچوں کی شادیاں کرنی ہیں ساتھ ہی ان بچوں نے جو امیدیں ہیں ان کو پورا کرنا ہے۔ "

ویب سائٹ: www.anathbalkashramorphanage.org

Related Stories