چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے تیز دماغ اور مضبوط دل کے مالک 'کاجو کنگ' راج موہن پلئی نے چکایا والد کا کروڑون کا قرض اور بن گئے پھر سے کروڑپتی

'کاجو کنگ' کے نام سے مشہور راج موہن پلئی کی زندگی ہمت، بلند حوصلے، محنت اور قوۃ ارادی کی حیرت انگیز مثال ہے۔ کیرالہ کے اس کاروباری اور صنعت کار نے ایسے سخت حالات اور مصیبتوں کا سامنا کیا ہے، جن کا تصور سے ہی بہت سے لوگ پسینہ پسینہ ہو جاتے ہیں، تو کئی لوگوں کی روح کانپ جاتی ہے۔ ایسے منفی حالات سے وہ دو چار ہوئے ہیں، جہاں انسان کے حوصلے اور ارادے اکثر ٹوٹ جاتے ہیں اور سارے خواب چکناچور ہوتے ہیں۔ قدم قدم پر بڑی بڑی مشکلوں کے دور اور بہت برے حالات میں بھی راج موہن پلئی نے چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ راج موہن پلئی نے جس طرح سے کامیابی حاصل کی، اس کے بہت سے لوگ کسی چمتکار سے کم نہیں مانتےراج موہن پلئی کے دادا، والد اور بڑے بھائی نے طرح طرح کے کاروبار کر خوب دولت اور شہرت کمائی تھی، لیکن کچھ واقعات اورحادثات کی وجہ سے سب کچھ اجڑ گیا۔ کروڑوں روپیوں کا منافع کمانے والی والد کی کمپنی کا دوالیہ۰ نکل گیا اور بڑے بھائی کی گرفتاری اور پھر حراست میں موت سے کاروباری سلطنت منٹوں میں ختم ہو گئی۔ ان بھیانک حالات میں جس طرح سے راج موہن پلئی نے صبر، ہمت، سوجھ بوجھ اور ثابت قدمی کا ثبوت دیا وہ آج لوگوں کے سامنے قبل تحریک مثال ہے۔ کاروبار کی دنیا میں راج موہن پلئی کی شہرت اور مقبولیت اس وجہ سے بھی ہے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنے والد کا کروڑوں روپیوں کا قرض چکایا، بلکہ اپنے بھائی کی کمپنیوں کو بحال بھی کیا اور گھر خاندان کی شہرت اور دولت واپس حاصل کی۔ ان کی کامیابی کی کہانی میں بہت سے منفرد اور دلچسپ پہلو ہیں۔ ان پہلوؤں کو جاننے سمجھنے سے انسانی زندگی کو بامعنی اور کامیاب بنانے کے فارمولے ملتے ہیں۔

0

 ریاست کیرالا کے ایک گاؤں میں 12 مئی، 1964 کو پیدا ہوئے راج موہن کی پرورش بڑے ہی انوکھے انداز میں ہوئی۔ رئیس اور رسوخدار خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود بھی راج موہن پلئی کی پرورش دولتمند خاندانوں کے بچوں کی طرح نہیں ہوئی۔ والد جناردن پلئی نے اپنے بیٹے راج موہن کی پرورش کچھ اس طرح کی کہ آگے چل کر ان کا بیٹا دوسروں سے بالکل مختلف بنے۔راج موہن پلئی کی اسکول کی تعلیم کیرالہ کے دارالحکومت ترویندرم میں ہوئی۔ وہ اسکول مرسڈيذ کار میں جاتے تھے، لیکن ان کی جیب میں ایک روپیہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ باپ کے قاعدے قانون اور اصول کچھ مختلف قسم کے تھے۔ انہی قوانین میں سے ایک اصول وہ تھا جس کی وجہ سے راج موہن کو جیب خرچ نہیں دیا جاتا تھا۔ راج موہن بتاتے ہیں،

"میرے اسکول میں بہت سارے ایسے بچے تھے جن کے والدین بیرون ملک رہتے تھے۔ ان بچوں کے پاس خوب سارا جیب خرچ ہوتا تھا۔ ان کے والدین باقاعدگی سے ان کے لئے بیرون ملک سے روپے بھیجتے تھے۔ میں مرسڈيذ گاڑی میں اسکول تو ضرور جاتا تھا، لیکن میری جیب خالی ہوتی۔ اس بات کو لے کر کئی دوست میرا مذاق بھی اڑاتے تھے۔ جیب میں روپے نہ ہونے کی وجہ سے مجھے اکثر بڑا دکھ ہوتا۔ اس وقت مجھے بہت برا لگتا جب میرے ساتھی وڈا وغیرہ کھا رہے ہوتے اور میرا دل بھی وڈا کھانے کو کرتا، لیکن اسے خریدنے کے لئے میرے پاس روپے نہیں ہوتے۔ "

ایسا بھی نہیں تھا کہ والد راج موہن کو روپے پیسے دیتے ہی نہیں تھے۔ راج موہن کو ان کے والد صرف چار کاموں کے لئے روپے دیتے تھے۔ مطالعہ، ، ٹینس، شہر سے باہر جانے پر بہترین جگہ ٹہرنےکے لئے اور کھیل سے منسلک کسی بھی کام کے لئے۔ جبکہ ان کے اسکول کے ساتھیوں کے پاس اپنے ہر شوق کو پورا کرنے کے لیے ضروری روپے ہوتےایک صنعتکار کی اولاد ہونے کے باوجود راج موہن کے کپڑے بھی سیدھے سادے ہوتے۔ دوسرے ساتھیوں کی طرح راج موہن میں دولت کا غرور بھی نہیں تھا۔ والد جو روپے دیتے تھے وہ اس کا حساب کتاب رکھتے تھے۔ والد کے ان سخت اور عجیب قوانین سے راج موہن کو کافی چڑھ تھی۔ انہیں اپنے والد سے نفرت سی ہونے لگی تھی اور دل ہی دل انہیں کافی کوستے بھی تھے۔

اور تو اور... والد نے راج موہن کو چودہ سال کی عمر میں ہی اپنے کاروبار سے شامل کر دیا تھا۔ فون کالز کو ریسیو کرنے کی ذمہ داری راج موہن کو ہی سونپی گئی۔ کاروبار کے سلسلے میں باپ الگ الگ لوگوں کے ساتھ جو ملاقاتیں کرتے تھے وہاں بھی موجود رہنا راج موہن کے لیے ضروری کر دیا گیا۔ جس وقت ہم عمر کے بچے موج مستی، سیر سپاٹے کر رہے ہوتے اورحسین خوابوں مگن رہتے، وہیں راج موہن اپنے والد کے ہدایات پر عمل کر رہے ہوتی۔

والد نے راج موہن سے خطروں سے بھرے کام بھی کروائے۔ راج موہن کو کاجو کی فیکٹری بھی بھیجا، جہاں مزدور کام کرتے تھے۔ فیکٹری میں راج موہن کو بھی مزدوروں کی طرح ہی رہنا اور کام کرنا پڑا۔ ایک بڑے صنعت کارکے بیٹے ہونے کا کوئی ٹھاٹ باٹ ان کے پاس نہیں تھا۔ فیکٹری میں تمام کا کھانا ایک، پانی ایک، اٹھنا-بیٹھنا ایک تھا۔ بہت سارے کام ایک طرح کے تھے۔ راج موہن کو بھی یہ سارے کام کرنے پڑتے۔ مزدوروں کے ساتھ فرش پر سونا پڑتا۔ انہی کی طرح کے کپڑے پہننے پڑتے۔ کاجو کے تھیلے اٹھانے میں مزدوروں کی مدد کرنی پڑتی۔ اچانک بارش آنے پر سب کے ساتھ مل کر کاجو کو بارش سے بچانا پڑتا۔ فیکٹری میں کام کرنا آسان نہیں تھا۔

ایک بار ایسا ہوا کہ فیکٹری میں جہاں راج موہن سوئے ہوئے ہیں، وہاں ایک سانپ نکل آیا۔ اس واقعہ کی یاد آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں، "میں فیکٹری میں سویا ہوا تھا۔ میرے پاس ایک سانپ آیا۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کس طرح اور کب آیا تھا۔ جب فیکٹری کے مزدوروں اور مینیجر نے سانپ کو میرے پاس دیکھا تو وہ گھبرا گئے۔ ان کے ہوش اڑ گئے۔ وہ شور نہیں مچا سکتے تھے اور سانپ کو بھگانے کی کوشش بھی نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر انہوں نے سانپ کو چھیڑا وہ مجھے ڈس بھی سکتا تھا۔ منیجر نے دھیمی-دھیمی آواز میں مجھے جگان کرنے کوشش کی۔ جب میری آنکھیں کھلی تو میں بھی دنگ رہ گیا۔ سانپ اپنا پھن پھیلائے بیٹھا تھا۔ ہلنے-ڈلنے پر کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ بڑی احتیاط سے میں اس سے دور چلا گیا۔ کچھ دیر بعد سانپ بھی وہاں سے چلا گیا، لیکن حالت ایسی تھی کہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ میں خوش قسمت تھا کہ میری جان بچ گئی۔ "اس واقعے کے بعد بھی والد نے راج موہن کو فیکٹری کو بھیجا اور بھیجتے رہے۔

والد کے سخت قوانین کو سمجھنے میں راج موہن کو کافی وقت لگا۔ وہ کہتے ہیں، "ان کا عمل بہت مشکل تھا۔ مجھے اس بات پر بہت تعجب ہوتا کہ مجھے سب سے اچھے اور مشہور اسکول میں پڑھایا جا رہا ہے، مرسڈيذ گاڑی میں اسکول بھیجا جا رہا ہے، تاج ہوٹل میں رہنے کا موقع مل رہا ہے، اچھی اچھی اور مہنگی آيسكريم کھانے کو بھی مل رہی ہیں، لیکن مجھے پاکٹ منی نہیں دی جاتی۔ ٹینس کھیلنے کی پوری چھوٹ تھی۔ الگ الگ شہروں میں جا کر ٹینس کھیلنے پر بھی کوئی روک ٹوک نہیں تھی، لیکن میں دوسرے بچوں کی طرح پکنک یا پھر کسی اور کام کے لئے باہر نہیں جا سکتا تھا۔ سیدھے سادے کپڑے پہنائے جانے کی وجہ بھی میں سمجھ نہیں پاتا تھا۔ والد جانتے تھے کہ فیکٹری میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے، وہاں خطرہ بہت ہے، اس کے باوجود انہوں نے مجھے فیکٹری بھیجا۔ جب میں نے کاروبار سنبھالا اور کام کرنے لگا تب جاکر مجھے ان کے ارادوں کا پتہ چلا۔ بہت دنوں بعد میں جان پایا کہ میرے لئے اس طرح کے عجیب قوانین کیوں بنائے گئے تھے۔ "

راج موہن کے مطابق ان کی پرورش کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ بہت سے معملوں میں دوسروں سے بہت مختلف اور بہتر تھے۔ وہ کہتے ہیں، "دسویں کی چھٹیوں میں والد نے مجھے کاروبار سے جوڑ دیا تھا۔ لوگوں کے فون ریسیو کرنے کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔ لوگوں سے بات چیت کرنے کا سليقہ میں سیکھ گیا۔ والد کے کاروباری اجلاسوں میں موجود رہنے کی وجہ سے مجھے بچپن میں ہی پتہ چل گیا تھا کہ ہمارا خاندان کس طرح کا کاروبار کر رہا ہے۔ "

کمسنی میں ہی راج موہن یہ سمجھنے لگے تھے کہ کاروبار کس طرح کیا جاتا ہے۔ والد کے قواعد و ضوابط نے انہیں اپنی ترجیحات کو طے کرنا بھی سکھایا۔ راج موہن نے بتایا، "مجھے کئی سالوں بعد احساس ہوا کہ باپ کے قوانین مجھے اپنی ترجیحات طے کرنا سکھانے کے لئے تھے۔ جب میں نے کام کرنا شروع کیا تب میرا پہلا کام ہوتا کہ میں اپنی ترجیحات طے کروں۔ بے کارچیزوں سے میں اپنے آپ کو دور رکھتا تھا۔ والد سے میں نے جو کچھ سیکھا تھا، اس کی وجہ سے میں اپنے ساتھیوں اور دوستوں سےمنفرد ہی نہیں بلکہ بہت آگے بھی تھا۔ جو چیزیں میں نے بچپن میں ہی سیکھ لی تھیں، میرے ساتھی وہ سالوں بعد سیکھ پائے تھے۔ والد کی ہی وجہ سے میں نے کاروبار سے جڑے کئی کام سیکھ لئے تھے۔ چھوٹی عمر میں ہی میں نے کئی سارے تجربے حاصل کر لئے تھے۔ میں نے چیلنجوں کو بھی سمجھا اور ان سے نمٹنے کے طریقے بھی سیکھے۔ اچھے برے دن تمام میں نے بہت جلد ہی دیکھ لئے تھے۔ 30 سال کی عمر تک میں نے جو دیکھا اور سمجھا تھا، اسے دیکھنے اور سمجھنے میں میرے ساتھیوں کو 40 سال لگ گئے۔ یعنی میں اپنے ساتھیوں سے 10 سال آگے تھا۔ "

یہ والد کی پرورش کا ہی نتیجہ تھا کہ راج موہن سگریٹ، پان مسالہ، جیسی چیزوں سے ہمیشہ دور رہے۔ اسی پرورش نے راج موہن پلئی میں ایک وسیع سوچ کو بھی جنم دیا تھا۔ راج موہن پلئی کے الفاظ میں، "آپ کون سی قلم سے امتحان لکھ رہے ہیں یہ بات اہمیت نہیں رکھتی ہے بلکہ اہم یہ ہوتا ہے کہ آپ نے امتحان کیسے لکھ رہے ہیں اور آپ امتحان میں کامیاب ہوئے ہے یا نہیں۔ یہ با بھی معنی نہیں کہ آپ کس طرح کے کپڑے پہن کر ٹینس کھیلنے گئے ہیں، اہمیت کی بات یہ ہے کہ آپ اپنے مخالف کو کس طرح سے ہراتے ہیں۔ میں بہت پہلے سمجھ گیا تھا کہ صورت سے کچھ نہیں ہوتا، خود اطمینان بہت ضروری ہے۔ "

راج موہن کو والد نے اچھی تعلیم دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ یہی وجہ بھی تھی کہ راج موہن بچپن سے ہی اچھے اور برے کی تمیز جاننے لگے تھے۔سخت ٹریننگ کے بعد راج موہن کو کاروبار میں بڑی ذمہ داری دی گئی۔ انہیں اڑیسہ سے خام کاجو خریدنے کا کام سونپا گیا۔ راج موہن اسے اپنی کاروباری زندگی کی پہلی پوسٹنگ بتاتے ہیں۔ اس پہلی پوسٹنگ کے تحت راج موہن کو خام کاجو خریدنے کے لئے اڑیسہ میں گاؤں گاؤں جانا پڑتا۔ کئی کلومیٹر تک دور دراز کے علاقوں میں جا کر لوگوں سے ملنا پڑتا۔ نہ صرف اڑیسہ بلکہ انہیں کاجو خریدنے کے لئے مغربی بنگال بھی جانا پڑتا تھا۔ راج موہن نہ اوڈيا جانتے تھے نہ بنگلہ، لیکن ان لوگوں سے احترام سے پیش آنے کی جو سیکھ ملی تھی اسی کواپنی مٹھی میں باندھے رکھا٫ نوجوان راج موہن کے حسن سلوک کسانوں کو کافی پسند آیا اور کئی کسان تو کےان مرید ہو گئے۔

اڑیسہ اور بنگال کی کاروباری دوروں کے دوران راج موہن کو زمینی سطح کے کاروبار کو سمجھنے میں مدد ملی۔ کم وقت میں ہی انہوں نے تاجروں اور کسانوں سے اچھے تعلقات بنائے۔ راج موہن کچھ ہی دنوں میں اڑیسہ کے کئی اضلاع میں خاصے مشہور ہو گئے تھے۔اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جس جگہ آج ان کا بڑا گودام موجود ہے، جہاں مقامی تاجر اور کارکن انہیں ملتے تھے، اس بس سٹاپ کا نام ہی راج موہن جنکشن پڑ گیا۔ راج موہن نے بتایا، "وہ دلچسپ تجربہ تھا میرے لئے۔ ان دنوں گاؤں کے سرپنچ یہ طے کرتے تھے کہ کسان کسے اپنا کاجو فروخت کرے گا۔ پہلے سرپنچ لو کو سمجھانا اور منانا ضروری ہوتا۔ اس وقت سرکاری قوانین بھی کاروباری لوگوں کے لئے سخت تھے۔ بچپن میں ہی میں نے سیکھ لیا تھا کہ کاروبار کرتے وقت لوگوں سے کیسے پیش آنا ہے، یہی تجربہ میرے کام آیا تھا۔ "

گریجویشن مکمل کرتے ہی راج موہن کو بیرون ملک بھیجا گیا۔ بیرون ملک کام کرتے ہوئے راج موہن کو نئی چیزوں کے بارے میں کافی کچھ سیکھنے کاموقع ملا۔ راج موہن پہلے برازیل گئے۔ برازیل میں راج موہن نے امریکہ میں فوڈ انڈسٹری کی سب سے بڑی کمپنی نبسكو کی فیکٹری میں کام کرنا شروع کیا۔ کچھ وقت کے لئے راج موہن نے انگلینڈ میں بھی کاروبار کیا۔ برازیل میں کام کرنے کے دوران راج موہن کمیونسٹ نظریات سے بے حد متاثر ہوئے تھے۔ وہ بھی اس معاشرے اور نظام کے خلاف تھے، جہاں کچھ لوگ بہت ہی زیادہ امیر تھے اور بہت سارے لوگ بہت ہی زیادہ غریب۔ وہ امیری اور غربت کے فاصلے کو مٹانے کا ارادہ لے کر واپس بھارت آئے تھے۔ غریب اور امیر کے درمیان عدم مساوات کو دور کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہو گیا تھا۔

ہندوستان واپس لوٹنے کے بعد جب راج موہن نے اپنے انقلابی خیالات کو اپنے والد کے سامنے پیش کیا تو وہ تعجب میں پڑگئے۔ باپ اور بیٹے میں کمیونسٹ خیالات کو لے کر بحث چھڑ گئی۔ راج موہن مانتے تھے کہ خاندان کی فیكٹريوں میں مزدوروں کی تنخواہ کم ہے اور وہ اسے بڑھانے کی پرزور وکالت کرنے لگے۔ نئے جوش سے بھرے راج موہن کو سمجھانا باپ کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔ اپنی مشکل کو دور کرنے کے مقصد نے باپ نے راج موہن کے سامنے ایک چیلنج پیش کیا۔ والد نے راج موہن کو یہ ثابت کرنے کو کہا کہ کیا ان کی نظریات واقعی عملی ہیں۔ والد نے اپنی ایک سافٹ ڈنرك کی فیکٹری راج موہن کو سونپی۔

ان دنوں راج موہن کے والد کو تھمس اپ، لمکا اور گولڈسپاٹ بنانے کا کانٹریکٹ ملا تھا۔ ان کے پاس سافٹ ڈرنك کی فیکٹری تھی اور اس میں 42 ملازم کام کرتے تھے۔ والد نے راج موہن کو نئے تجربے کے لئے اس فیکٹری بھیجا۔ کاروبار کی ساری ذمہ داری نوجوان اور جوشیلے راج موہن کو سونپتے ہوئے باپ نے کہا کہ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے تو کمپنی ان کی ہوگی، ورنہ انہیں ان کی کہی ہر بات راج موہن کو ماننی ہوگی۔ راج موہن نے چیلنج اور شرط دونوں قبول کر لئے۔ نئی امنگ اور حوصلہ کے ساتھ راج موہن نے 42 ملازمین کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ فیکٹری ساری آٹومیٹک تھی اس وجہ سے ملازم کم تھے، جبکہ ان کے والد قریب پچاس ہزار ملازمین اور مزدوروں کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔

فیکٹری کے کام کاج کی ذمہ داری لیتے ہی راج موہن نے بائیں بازو کے نظریات پر عملآوری شروع کر دی۔ نئے تجربے حاصل کرنے کا اچھا موقع انہیں ملا تھا۔ جیسے ہی انہوں نے فیکٹری سنبھالی ملازمین کی تنخواہ 3 گنا بڑھا دی۔ ملازمین کی تنخواہ 7 روپے فی دن تھا، اسے بڑھا کر 21 روپے فی دن کر دیا گیا۔ تنخواہ بڑھاتے وقت راج موہن نے ملازمین سے کہا تھا - فیکٹری کی کل صلاحیت کے مقابلے صر صرف 42 فیصد ہی کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے ملازمین سے اس کام کو بڑھا کر 60 فیصد کرنے کو کہا۔ 60 فیصد پروڈکشن کا مطلب تھا بریک اون یعنی کوئی نقصان نہیں۔ راج موہن کے والد نے اس فیکٹری میں تین کروڑ کی سرمایہ کاری کی تھی۔ راج موہن کو امید تھی کہ تنخواہ بڑھا دینے سے ملازم خوب دل لگا کر محنت سے کام کریں گے اور جلد ہی پروڈکشن بڑھے گا اور فیکٹری کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، لیکن تنخواہ بڑھانے کے چند ماہ بعد راج موہن کی توقعات پر نہ صرف پانی پھر گیا بلکہ انہیں بہت بڑا جھٹکا لگا۔ کیرالہ کے سب سے بڑے تہوار اونم کا حوالہ دیتے ہوئے ملازمین نے پھر سے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ راج موہن نے تنخواہ بڑھانے سے یہ کہتے ہوئے صاف انکار کر دیا کہ پہلے ہی تنخواہ بڑھادی گئی ہے اور فیکٹری خسارے سے نہیں ابھر پائی ہے۔ لیکن، ملازمین اپنے مطالبے پر اڑ گئے۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ فیکٹری جتنی مالک ہے، اتنی ہی ان کی بھی ہے اور فیکٹری کے املاک پر ان کا بھی حق ہے۔ ملازمین کی یہ باتیں سن کر راج موہن کا ماتھا چکرا گیا۔ وہ بھی اس ضد پر اتر آئے کہ ملازمین کی تنخواہ نہیں بڑھائی جائے گی۔

اس پر مزدوروں نے ہڑتال کا اعلان کردیا۔ فیکٹری کا کام کاج ٹھپ پڑ گیا۔ اس دوران توڑ پھوڑ کے بھی کچھ واقعات ہوئیں۔ راج موہن کے لئے حالات بے قابو ہوتے جا رہے تھے۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے والد نے راج موہن کو اپنے پاس واپس بلا لیا۔ واپس بلانے کے بعد راج موہن کو نہ ڈانٹا نہ پھٹکارا۔ اس مسئلہ کے لئے راج موہن سے کچھ کہا بھی نہیں۔ وہ یہاں بھی اپنے بیٹے کو کچھ سیکھ دینا چاہتے تھے۔

ہڑتال جاری تھی اور اسی درمیان ملازمین کےلیڈر نے راج موہن کے والد کوپیغام بھیجا کہ معاملے کو بات چیت کے ذریعہ حل کیا جائے۔ والد نے بات چیت کے ذریعہ معاہدے کی پیشکش کو قبول کر لیا اور انہیں دفتر بلایا۔ بات چیت شروع ہوئی۔ لیڈر نے تنخواہ بڑھا کر 30 روپے فی دن کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبے کو سرے سے مسترد کر دیا اور صاف کیا کہ خسارے کی وجہ سے تنخواہ نہیں بڑھائی جا سکتی۔ بات چیت کے دوران راج موہن وہیں موجود تھے، لیکن وہ خاموش بیٹھے رہے اور کچھ نہیں کہا۔ چونکہ ملازمین کا لیڈر تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ پر اڑا تھا اور راج موہن کے والد جناردن پلئی اپنی جگہ اڑے تھے، بات چیت بے نتیجہ رہی۔ ملازمین کا سربراہ مایوس اور ناراض ہوکر لوٹ گیا۔

اس واقعہ کے کچھ دن بعد دوبارہ لیڈر کا پیغام آیا۔ پھر باتچیت شروع وہوئی۔ اس بار بھی جناردن پلئی نےبات چیت کے لئے اس کو اپنے دفتر بلایا۔ اس بار بھی راج موہن پلئی وہیں موجود تھے، لیکن خاموش رہنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی۔ جناردن پلئی نے اس بار بات چیت کو کامیاب بنانے کے لئے ایک مختلف ترکیب اپنائی۔ انہوں نے 10 ہزار روپے کی ایک گڈی اپنے ٹیبل پر لیڈر کے سامنے رکھی اور پھر بات چیت شروع کی۔ بات چیت کے دوران لیڈر کا سارا دھیان نوٹوں کی گڈی پر ہی ٹکا رہا۔ راج موہن کے والد نے صاف کہہ دیا کہ تنخواہ بڑھانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور تنخواہ صرف 10 روپے فی دن کے حساب سے ہی دی جا سکتی ہے۔ یہ بات سن کروہ گھبرا گیا اور اس نے کہا کہ اگر وہ یہ تجویز لے کر ملازمین کے پاس گیا تو وہ اس کی جان لے لیں گے۔ یہ بات سنتے ہی راج موہن کے والد نے نوٹوں کی گڈی کو ٹیبل سے ہٹانا شروع کیا۔ نوٹوں کی گڈی کو اپنی نظروں کے ہٹتا دیکھ لیڈر کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑنے لگا، اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں، اس سے رہا نہیں گیا اور وہ تنخواہ 10 روپے سے کچھ اور بڑھانے کے لئے گزارش کرنے لگا۔ آخر بات ساڑھے پندرہ روپے پر بن گئی۔ ملازمین کا سربراہ نوٹوں کا بنڈل لیکر چلا گیا۔

راج موہن یہ سب دیکھ رہے تھے۔ ان کے لئے یہ سب کچھ تصور سے پرے تھا۔ وہ کتابی علم اور عملی زندگی میں فرق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کے نظریات کی دھججيا اڑ رہی تھیں۔ وہ خاموش رہے، لیکن ان کے والد نے انہیں نئے طریقے سے نیا سبق سکھایا تھا۔ اس کے بعد اگلے دن فیکٹری میں ہڑتال ختم ہوئی، ملازمین نے جشن منایا اور کام پر لوٹے۔

یہ واقعات راج موہن کو حیران پریشان کر رہے تھے۔ راج موہن کے لئے یہ حیرت کا موضوع تھا کہ اس لیڈر کی نظر مزدوروں کے مفادات پر کم نوٹوں کی گڈی پر زیادہ تھی۔ راج موہن کے لئے یہ راز ہی رہ گیا کہ اس نے مزدوروں کو کیسے منایا؟ وہ یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ وہ سربراہ فیکٹری کے ملازمین کو یہ کیسے منا پایا کہ ساڑھے پندرہ روپے اکیس روپے سے زیادہ ہیں، لیکن راج موہن یہ ضرور سمجھ گئے تھے کہ کسی کو بغیر اس کی قابلیت کے کچھ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ ملازمین کو بے وقت اور قابلیت سے زیادہ دینا بھی غلطی ہے۔ راج موہن کو احساس ہو گیا کہ تنخواہ بڑھانے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ملازم اور بھی زیادہ محنت کریں گے۔ ان سے محنت کرانے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا سب سے ضروری ہے۔ ان کے خاندان کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ راج موہن کہتے ہیں، "سافٹ ڈرنک کی فیکٹری والے واقعات سے مجھے اچھا سبق سیکھنے کو ملا۔ مزدوروں سے محنت کروانے کے لئے ایک قسم کا سرمایہ داری رویہ بے حد ضروری ہے۔ یہی بات میرے لئے سب سے بڑا سبق تھی۔ "

راج موہن کو اپنے والد کی وجہ سے کاروبار کے بنیادی عناصر کو سمجھنے کا موقع ملا تھا۔ راج موہن کاروباری ہونے کی وجہ سے وہ بہت سے لوگوں سے ملتے تھے۔ ملک و بیرون ملک میں وہ بہت کاروباریوں، ملازمین، مزدوروں، کسانوں اور بھی دوسرے پیشے والے لوگوں سے ملتے تھے۔ فطرت کچھ ایسی تھی کہ ہر ملاقات سے کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کی کوشش میں رہتے تھے۔ راج موہن کہتے ہیں، "والد زندگی بھر ٹیچر اور راہبر کا کردار ادا کرتے رہے۔ انہیں کی وجہ سے میں لوگوں سے ملتا تھا اور ان تجربات سے بہت کچھ سیکھتا تھا۔ اب بھی میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ "

اچانک راج موہن کے والد کو کاروبار میں بہت بڑا نقصان ہوا۔ حالات ایسے بنے کہ کاروبار کرنے اور منافع کمانے میں ماہر سمجھے جانے والے ان کے والد کے کاروبار کا دیوالیہ نکل گیا۔ ہوا یوں تھا کہ روس اور بھارت کے درمیان ایک کاروبار کے معاہدے پر دستخت ہونے تھے۔ کچھ وجوہات سے دونوں ملک کے درمیان بات چیت نہیں بنی۔ معاہدہ پر دستخط نہیں ہو پائے۔ معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے روس نے راج موہن کے والد سے کاجو نہیں خریدا، جبکہ کاجو خریدنے کا کانٹریکٹ ہو چکا تھا۔ جو کاجو روس کو فروخت کرنے کے لئے خریدے گئے تھے، وہ اب بیکار پڑے تھے۔ روس سے بھارت کے معاہدے نہ ہونے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ ہندوستان میں کاجو کے دام اوندھے منہ گر گئے۔ اس سے راج موہن کے والد کو بھاری نقصان ہوا۔ یہ بات 1982 کی ہے۔

اسی دوران راج موہن کے والد کو دل کا دورہ پڑا۔ ان کی صحت اتنی خراب ہوئی کہ وہ دوبارہ کاروبار نہیں سنبھال پائے۔ خسارے کی وجہ سے خاندان کی ساکھ کو بھی دھکا لگا۔ والد پر قریب 10 ملین امریکی ڈالر کا قرض ہو گیا، جوکہ بہت ہی بڑی رقم تھی۔ اس وقت بڑے سے بڑے صنعتکار کے لئے بھی یہ رقم بہت ہی بڑی تھی۔ چونکہ خراب صحت کی وجہ سے باپ کاروبار نہیں سنبھال سکتے تھے اور گھر خاندان کی ساکھ بھی داؤ پر تھی، ماں نے راج موہن کو قرض ادا کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ 18 سال کے راج موہن کے کندھوں پر 10 ملین امریکی ڈالر کا قرض ادا کرنے کا بوجھ پڑ گیا۔

اب راج موہن کی پرورش کا امتحان تھا۔ والد نے انہیں اپنی تربیت میں ذہنی طور پر بہت مضبوط بنا دیا تھا۔ وہ حالات سے گھبرانے والوں میں سے نہیں تھے۔ دل مضبوط ہو گیا تھا، دماغ تیز تھا، کاروباری سوجھ بوجھ بھی حاصل کر لی تھی، اسی وجہ سے راج موہن نے پہاڑ جیسے قرض کو ادا کرنے کا ذمہ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ زندگی میں اب تک کی سب سے بڑی مشکل والے اس وقت میں راج موہن نے ہمت نہیں ہاری۔

قرض بہت بھاری تھا، لوگوں کا کافی روپیہ دینا تھا۔ انڈین اوورسيز بینک نے قانونی مقدمہ دائر کر دیا، لیکن راج موہن ہارے نہیں۔ انہوں نے تھوڑا تھوڑا کر قرض چکانا شروع کیا۔ چھوٹی چھوٹی رقم والی قرض کی ادائیگی پر بینک نے کافی ناراضگی کا اظہار کیا۔ بینک کے حکام نے کہا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی رقم بھرنے سے قرض نہیں چکا پاوگے۔ راج موہن نے اپنا رخ صاف کر دیا۔ انہوں نے سامنے متبادل رکھا کہ یا تو انہیں ان پر بھروسہ کرنا پڑے گا، یا پھر ان کا کاروبار بند کروا سکتے ہیں۔ بینک نے ان پر اعتماد کیا اور آہستہ آہستہ قرض کی رقم ادا کرنے کا کام جاری رہا۔

راج موہن کے لئے یہ دور بڑے جدوجہد کا دور تھا۔ 1987 سے 2007 تک مشکلوں سے بھرے ان دنوں میں بھی اپنی راہ سے ٹس سے مس ہوئے بغیر راج موہن آگے بڑھ رہے تھے۔ والد کے کاروبار کو خسارے سے نکالنے کے لئے دن رات ایک کر رہے تھے۔ کاروبار بڑھنے بھی لگا تھا، امید کی نئی کرن دکھائی دینے لگی تھی، لیکن اسی درمیان راج موہن کو ایک اور بہت بڑا جھٹکا لگا۔ ان کے بڑے بھائی راجن پلئی کے خلاف سنگاپور میں ایک مجرمانہ مقدمہ درج ہو گیا۔ راجن پلئی بھی بہت بڑے کاروباری تھے۔ ان کا کاروبار بھی بہت سے ممالک میں پھیلا ہوا تھا۔ بسکٹ کے کاروبار سے انہوں نے خوب دولت اور شہرت کمائی تھی۔ وہ 'بسکٹ کنگ' کے نام سے مشہور تھے۔ سنگاپور میں ان کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج ہونے کے بعد وہ بڑے ہی پراسرار طریقے سے ہندوستان آ گئے، لیکن بہت کوششوں کے بعد بھی گرفتاری سے نہیں بچ پائے تھے۔ گرفتاری کے بعد انہیں تہاڑ جیل بھیجا گیا۔ جیل میں راجن پلئی کی موت ہو گئی۔ یہ موت بہت ہی پر اثرار تھی۔ 1995 میں بڑے بھائی اور صنعتکار راجن پلئی کی موت کے بعد راج موہن اور بھی بڑی مصیبتوں سے گھر گئے۔ خاندان کی کمپنیوں کی ساکھ اب خطرے میں تھی۔۔ ملازم بھی کمپنیوں کو چھوڑنے لگے تھے۔ ملازمین اور مزدوروں کو لگتا تھا کہ اس دوسرے بڑے جھٹکے سے اب پلئی خاندان کبھی بھی خسارے سے نہیں نکل پائے گا۔ پرانے اور وفادار ملازمین نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ دوست احباب اورشتہ دار بھی کنی کاٹنے لگے تھے۔

ارادوں کے پکے راج موہن نے اس بار بھی برے حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے نہ صرف اپنے آپ کو ذہنی طور پر مستحکم اور مضبوط بنائے رکھا، بلکہ کاروبار کو واپس پٹری پر لانے میں کوئی کور کسر باقی نہیں چھوڑی۔ آخر کار باپ کا سارا قرض چکا دیا۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے اپنے گھر خاندان کے کاروبار کو بحال کیا اور اسے منافع کی طرف لے گئے۔ خسارے پر قابو پانے میں انہیں کئی سال لگے، لیکن انہوں نے گھر خاندان کو وہی شہرت واپس دلوائی جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کی شہرت تھی۔

راج موہن نے کہا، "کسی بھی کاروبار کے بنیاد اسکی ساخت ہوتی ہے۔ بھائی کی گرفتاری اور پھر جیل میں موت کے بعد ہمارے کاروبار کی ساکھ کو چوٹ پہنچی تھی۔ ہمارے کسٹمر ہم سے دور ہو رہے تھے، پرانے اور وفادار ملازم بھی ہمیں چھوڑ کر جانے لگے۔ والد کا قرض چکانا ابھی باقی ہی تھا کہ کاروبار میں اور بھی نقصان ہونے لگا۔ بڑی مشکل بھرے دن تھے وہ۔ مجھے پھر سے وہی عمل شروع کرنی تھی جو میں نے میرے والد کی کمپنیوں کے دیوالیہ نکلنے کے وقت شروع کی تھی۔ میرا کام دوگنا ہو گیا تھا اور مجھے محنت بھی دگنی کرنی پڑی۔ "

راج موہن کی محنت رنگ لائی۔ بہادر راج موہن کو کامیابی ملی۔ یہ کامیابی بھی معمولی نہیں تھی۔ بہت بڑی اور تاریخی کامیابی تھی۔ راج موہن کی  کوشش کی وجہ سے 10 ملین امیرکی  ڈالر کے قرض کو  ادا کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ وہ اپنے خاندان کی کمپنیوں کو ترقی اور منافع کے راستے پر لانے میں بھی کامیاب ہوئے تھے۔ ان کامیابیوں کے پیچھے ایک اور بڑی کامیابی چھپی ہوئی تھی، جس کا احساس راج موہن کو بالکل نہیں تھا۔ زبردست محنت،صبر اور جرات کا پھل انہیں ایک بہت ہی بڑے خوشگوار حیرت میں ڈبونے کے لیے تیار تھا۔

جیسے ہی راج موہن پلئی نے انڈین اوورسيذزبینک کا قرض اداکر دیا، تب بینک کے حکام نے انہیں ان زمین جائداد کے دستاویز سونپے جو قرض لینے کے وقت ضمانت کے طور پر رکھےگئے تھے۔ قرض چکاتے وقت بھی راج موہن کو اس بات کا احساس نہیں ہوا تھا کہ زمین جائداد کے دستاویز بینک کے پاس رکھے ہوئے ہیں، لیکن زمین جائداد کے دستاویز انہیں ملتے ہی ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا، کیونکہ یہ زمین جائیداد کی قیمت کروڑوں روپے کی تھی۔ قرض ادا کرنے میں راج موہن کو 27 سال لگے تھے اور اس دوران اس زمین جائیداد کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ اچانک ایک ہی دن میں راج موہن پلئی دیوالیہ انسان سے منافع والے کاروباری ہو گئے تھے۔

اس شاندار اور یادگار دن کی یاد کرتے ہوئے راج موہن نے کہا، "میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن سب کچھ بدل جائے گا۔ میرے لئے وہ کرشمہ تھا۔ لیکن، مجھے جلد ہی سمجھ میں آ گیا کہ یہ کرشمہ ایک دن میں نہیں ہوا ہے۔ اس کرشمہ کے پیچھے سالوں کی محنت ہے۔ میں محنت نہیں کرتا اور قرض نہیں ادا کرتا تو یہ سب میرا نہیں ہوتا۔ ویسے بھی مجھے زمین جائداد کے کاغذوں کے بارے میں پتہ ہی نہیں تھا۔ میں اپنا کام کرتا گیا اور جب کام ختم ہوا تو مجھے میری محنت کا نتیجہ  ملا۔ "

اپنی جدوجہد اور کامیابی کی کہانی سنانے کے دوران راج موہن نے یہ بھی کہا، "حالات بدلتے رہتے ہیں، اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ نئی نئیےچیلنجز آتے ہیں۔ ہر چیلنج اپنے وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ میں  شروع سے مانتا تھا کہ جب نیچر نے کوئی پرابلم کرئیٹ  کی ہے جو اس پرابلم کا سلوشن بھی نیچر کے پاس ہی ہوگا۔ والد کا قرض ادا کرنے اور خاندان کے کاروبار کو بچانے کے دوران بھی مجھے لگا کہ نیچر ہی سلوشن گا، میں تو پرابلم کو حل کرنے میں صرف ایک ذریعے ہوں۔ "

راج موہن کو دنیا بھر میں بہت سے لوگ دو کاموں کے لئے جانتے اور مانتے ہیں۔ پہلا - اپنے والد کابھاری بھرکم قرض چکانےکے لئے، دوسرا - بڑے بھائی کی موت کے بعد آئے بڑے بحران پر قابو پانے اور خاندان کی کمپنیوں کو بحال کر نئی کاروباری سلطنت کھڑے کرنے کے لئے۔ اسی بابت پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں راج موہن نے کہا، "لوگ میری دو بڑی مشکلات کے بارے میں ہی جانتے ہیں، لیکن انہیں نہیں معلوم میں نے کتنی مصیبتیں جھیلی ہیں۔ ہزاروں بار کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔  بہت موقع ایسے رہے ہیں، جہاں میں نے کروڑوں روپے کے کاروبار کے بارے میں نہیں، بلکہ اپنی بیوی  کے بارے میں سوچا ہے۔ اگر میرا بیٹا بیمار ہو جاتا ہے تو میرا سارا دھیان میرے بیٹے کے علاج میں لگ جاتا ہے۔ کسی بات کو لے کر کسی دوست کو ہوئی غلط فہمی کو دور کرنا میری ترجیح بن جاتی ہے۔ لوگ ان سب کے بارے میں نہیں جانتے، وہ تو بس دو ہی چیزوں کے لئے مجھے جانتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو یہی لگتا ہے کہ میں نے زندگی میں دو ہی بار مصیبتوں کا سامنا کیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر دن جدوجہد ہوتا ہے، ہر دن نیا چیلنج ہوتا ہے۔ "

ان دنوں راج موہن کی گنتی بھارت کے سب سے زیادہ مشہور صنعت کاروں میں ہوتی ہے۔ وہ بیٹا گروپ کے چیئرمین ہے اور اس گروپ کی کئی ساری کمپنیاں دنیا کے کئی ممالک میں کاروبار کرتے ہوئے کروڑوں کا منافع کما رہی ہیں۔ چونکہ خاندان میں گزشتہ تین نسلوں سے کاجو کا کاروبار ہو رہا ہے اور راج موہن کی زیادہ کمائی کاجو کے کاروبار سے ہی ہے، وہ اب دنیا بھر میں 'کاجو کا بادشاہ' کے نام سے بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ بہت ہی برے حالات میں مسائل  کا سامنا کرنے، لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے، چکنا چور ہوئے خوابوں کی تہوں کو تنکے-تنکے سے جوڑ کر دوبارہ بننے اور پھر ایک بڑی کاروباری سلطنت کھڑای کرنے والے راج موہن کی کہانی اب کامیابی کی نایاب کہانیوں میں شمار کی جاتی ہے۔

ان کا BETA صنعت گروپ اب صرف کاجو اور فوڈ پروسیسنگ ہی نہیں بلکہ کئی سارے دوسرے علاقوں میں پھیل چکا ہے۔ بیٹا گروپ 2 ارب امریکی ڈالر کا کاروبار  ہے۔ فوڈ پروسیسنگ، مینوفیکچرنگ، مارکیٹنگ اور ڈسٹری بیوشن میں ان کی مضبوط پوزیشن ہے۔ انٹرٹینمنٹ لاجسٹكس اور كنسلٹگ کے میدان میں بھی ان کا کاروبار پھیلا ہوا ہے۔ لیکن جو مشکل دور انہوں نے دیکھا سہا ہے، اس میں عام لوگوں کے لئے کھڑے ہونا تو دور بچے رہنا بھی مشکل تھا۔ اسکو راج موہن کا حوصلہ ہی تھا، جو انہیں پھر سے پوری توانائی کے ساتھ کھڑا کرنے میں مدد کی۔

 دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وہ ٹھاٹ باٹ نہیں رکھتے۔ دکھاوا  نہیں کرتے۔ رعب نہیں جھاڑتے۔ سب کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں اور دولت اور شہرت کی بنیاد پر انسان-انسان میں فرق نہیں کرتے۔ وہ انسانی جذبات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ان کی قدر بھی کرتے ہیں۔ ان کی خاصیت یہ بھی ہے کہ، پوزیشن-حالت کیسی بھی کیوں نہ ہو وہ اپنے آپ کو ہمیشہ متوازن رکھتے ہیں۔ راج موہن کہتے ہیں، "یہ سب بھی میں نے اپنے والد سے ہی سیکھا ہے۔ خوشی کا موقع ہو یا بڑے بحران کا وقت وہ  ہمیشہ ایک جیسے نظر آتے تھے، اور ایک جیسا ہی رہتے تھے۔ وقت اور حالات کے ساتھ ان کا برتاؤ نہیں بدلتا تھا۔ اپنے آپ کو متوازن رکھتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ سادہ زندگی گزاری۔ سادگی بنائے رکھی۔ "

والد کے دیئے سبق کی وجہ سے راج موہن نے  ہمیشہ اپنی ترجیحات طے کیں اور کام کرتے گئے۔ ایک لحاظ سے راج موہن کے لئے ان کے والد صنعت کا سبق سیکھنے کا سب سے بڑا اسکول تھے۔ والد ہی راج موہن کے لئے سب بڑی تحریک کا باعث  تھے۔ دیوالیہ پن سے باہر نکل کردوبارہ کامیابی اور شہرت کے باوجود راج موہن نے باپ سے سیکھے ہوئے سبق نہیں بھولے ہیں اور زندگی میں اقدار کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔

راج موہن نے اپنے بھائی راجن پلے کی یاد میں 9 کمپنیاں قائم کیں۔ فی الحال یہ کمپنیاں پھل مشروبات، بادام، کھجور، اخروٹ اور پستا سمیت خشک پھل کے کاروبار میں معروف ہیں۔ راج موہن پلئی نے اپنے باپ کے۔ جناردن پلئی کی یاد میں كےجےپي ریسرچ فاؤنڈیشن قائم کی۔ یہ فاؤنڈیشن کاجو اور باغبانی کے میدان میں تحقیق اور تحقیقی کام کرتا ہے۔ اپنے بھائی راجن کی یاد میں انہوں نے راجن پلئی فاؤنڈیشن بھی قائم کیا۔ یہ ادارہ معاشرے کی فلاح و بہبود اور انسانی خدمت کے مقصد سے کھیل، معاشرے-سائنس، دواسازی جیسے الگ الگ علاقوں میں کام کر رہی ہے۔

راج موہن نے اپنے بڑے بھائی کی مشکوک موت پر 'اے ویسٹیڈ ڈیتھ' نام سے ایک کتاب بھی لکھی۔ اپنے والد کی زندگی کےاقدار پر بھی انہوں نے ایک کتاب لکھی۔ راج موہن پلئی نے  تجارت مین تحقیق کا بھی منفرد ریکارڈ پیش کیا۔ انہوں نے 'دی ورلڈ كیشو انڈسٹری - اینڈ انڈین پرسپیكٹو نام سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ کاجو کے کاروبار میں حقیق اور ترقی کے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے نیو ایج انٹرنیشنل یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی فراہم کی۔ راج موہن ٹینس کے اچھے کھلاڑی ہیں۔ 

ترواننتپرم میں ان کے گھر پر ہوئی ایک انتہائی خاص بات چیت میں راج موہن پلئی نے اپنی کامیابی کے راز پر سے پردے بھی اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہر دن علی الصبح تین بجے اٹھتے ہیں اور تنہائی میں ملنے والے دو گھنٹوں میں ہی وہ اپنے زیادہ تر کاروباری کام نپٹا لیتے ہیں۔ عملدرآمد کی درخواست اصول میں یقین رکھنے والے راج موہن پلئی کہتے ہیں،

"زندگی تبھی خوبصورت بنے گی جب آدمی کوشش کرے گا۔ انسان کو اپنے حال میں جینا چاہئے۔ جو وقت کا مطالبہ ہے، ہاتھ میں جو کام ہے اسے پورا کرنےکی کوشش کرنی چاہئے۔ کرشمےایک دن میں کبھی نہیں ہوتے۔ کام کرتے رہنے سے ایک مقررہ وقت پر کرشمے اپنے آپ کو ہو جاتے ہیں۔ "

راج موہن پلئی نے یہ بھی کہا، "خطرہ ہر جگہ ہے۔ میری نظر میں نوکری کرنے میں بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کاروبار کرنے میں۔ کاروباری بننے میں بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کہیں جاکر نوکری کرنے میں۔ میں نے خود دیکھا کہ آئی اے ایس، آئی پی ایس کی بڑی سرکاری نوکری میں بھی خطرہ ہے۔ میرے دو آئی اے ایس جوکہ ایماندار اور محنتی تھے ان پر بھی بدعنوانی کے الزامات لگے اور ان کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ صرف کاروبار کرنے اور کاروباری بننے میں خطرہ ہے۔ مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں،یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ان چیلنجوں کو کس قدر قبول کرتا ہے ۔ "  

اس کامیاب صنعتکار مشورہ ہے کہ دل کے جو ارمان ہیں انہیں پورا کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ کوشش میں ہی زندگی کی حقیقی خوبصورتی اور کامیابی چھپی ہوئی ہے۔

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories