نفرت کا ماحول ملک کے لئے تباہ کن

0


گیارہ ستمبر سن 1948 کو اس وقت کے نائیب وزیر آعظم اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس سربراہ گرو جی گولوالکر کو ایک طویل خط لکھا تھا ۔دراصل یہ جوابی خط تھا ۔نتھورام گوڈسے کے ہاتھو ں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد حکومت ہند نے آر ایس ایس پر پابندی لگادی تھی ۔ گولوالکر نے پٹیل کو ایک خط لکھتے ہوئے پابندی ختم کرنے کی درخواست کی تھی ۔پٹیل نے جوابی مکتوب لکھا اس میں انہوںنے کسی جارحیت کا مظاہرہ نہیں کیا نہ ہی آر ایس ایس کو برا بھلا کہنے کی کوششکی کی ۔پٹیل نے مکتوب میں لکھا ”اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آر ایس ایس نے ہندووں کی بہت خدمت کی ہے ۔اور کسی کو بھی یہ بات قبول کرنے میں جھجک محسوس ہوگی ۔پھر اس کے بعدپٹیل نے جو لکھا شائید اسے آر ایس ایس کبھی بھی پسند کرے ۔انہوںنے لکھا ”مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب آر ایس ایس کے یہی لوگ ملسمانوں سے بدلہ لینے کے مقصد سے شر انگیزی شروع کردیتے ہیں ۔ٹولیوں کی شکل میں گاوں گاوں گھومتے ہیں اور وہاں رہنے والے بے یار و مدد گار لاچار و مجبور مسلمانوں پر حملے شروع کردیتے ہیں ۔ہندووں کی مدد کرنا اور بات ہےمگر غریب بے یار و مدد گار مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے بچوں اور خواتین پر حملے کئے جاتے ہیں اور یہ بات نا قابل برداشت ہے ۔“

پٹیل نے اس مکتوب میں الفاظ کا کھیل نہیں کھیلا بلکہ دو ٹوک الفاظ میں انہوںنے واضح کیا کہ آر ایس ایس ملک میں نفرت پھیلاکر عدم استحکام پیدا کررہی ہے ۔انہوںنے صاف الفاظ میں کہا کہ آر ایس ایس ماحول میں نفرت کا زہر گھول رہی ہے ۔اس کی تقریریں بدترین فرقہ پرستی پر مبنی ہیں ۔انہوںنے سوال کیا کہ ہندووں کو بچانے کےلئے فرقہ پرستی کو ہوا دینے کی آخر ضرورت کیا ہے ۔نفرت کے پرچار کے ذریعہ کیا آر ایس ایس ہندووں کو بچانے کے لئے آحر یہ کونسا کھیل کھیل رہی ہے ۔پھر انہوںنے آر ایس ایس کی ملامت کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ اسی نفرت کی آگ میں اور فرقہ پرستی کی لہر نے ملک سے بابائے قوم کو چھینا ہے ۔ایسے میں یہ ضرصری ہوجاتا ہے کہ آر ایس ایس پر پابندی عائید رہے ۔“

کیا یہ بد قسمتی نہیں ہے کہ انہیں سر دار ولبھ بھائی پٹیل کو آج آر ایس ایس اور وزیر آعظم نریندر مودی نے اپنا لیڈر اور اپنا نظریہ ساز مانا ہوا ہے اور انہیں ایک بہترین رہنما قراردینے میں ایک پل بھی نہیں سوچتے ۔‘ پٹیل ایک کانگریسی تھے اور مہاتما گاندھی کے سب سے وفادار حمایتی مانے جاتے تھے ۔اور ملک کے پہلے وزیر آعظم پنڈت جواہر نہرو کے انتہائی با اعتماد رفیقوں میں پٹیل کا شمار ہوتا تھا ۔آج آر ایس ایس نہرو کے مقابلے پٹیل کو بڑا لیڈر مانتی ہے اور یہ کہتے نہیں تھکتی کہ اگر پٹیل اس وقت وزیر آعظم ہوتے تو آج ملک کا نقشہ ہی دوسرا ہوتا ۔گذشتہ چند مہینوں میں آر ایس ایس اور بی جے پی نے نہرو کی شبیہ بگاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔اور بار بار یہ باور کرانے کی کوششکی جارہی ہے کہ محض نہرو کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک آج اس حالت میں ہے ۔یقینا تاریخ ملک کے ان دو عظیم سپوتوں اور قد آور رہنماوں کے قد کا از خود فیصلہ کریگی ۔لیکن ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ تاریخ آر ایس ایس اور ان کے ہمنواوں کو کبھی معاف نہیں کریگی ۔

آج سے اڑ سٹھ سال پہلے سردار ولبھ بھائی پٹیل نے جس نفرت کے ماحول کے لئے آر ایس ایس کی سر زنش کی تھی آج بالکل ویسیا ہی ماحول پیدا کیا جارہا ہے اور مودی کی حکومت کے سہارے آر ایس ایس اپنے ناپاک عزائم کو عملی شکل دینے کے لئے ایک بار پھر سرگرم ہوگئی ہے ۔گذشتہ دس دنوں سے قوم پرستی کی تعریف کو لے کر ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔اشتعال اس وقت پھیلا جب کچھ طلبہ نے جے این یو کے احاطے میں مخالف انڈیا نعرے لگائے ۔اور پھر جواہر لال نہرو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کو گرفتار کرلیا گیا ۔اس واقعے کے بعد دو قسم کی باتیں جان بوجھ کر پھیلائی گئیں ۔ایک بات تو یہ کہ جے این یو دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ ہے اور اسے بند کردینا چاہیے ۔۔اور دوسرا یہ کہ جو بھی اس خیال سے اتفاق نہیں کریگا یا پھر اس بات سے انکار کریگا وہ قوم دشمن ہے ۔اور ان دو مفروضوں کی آڑ میں ہر غلط بات کو سچ ثابت کرنے کا جواز پیدا کیا جارہا ہے ۔

میں نے جے این یو میں تعلیم حاصل کی ہے اور ایک طویل عرصے تک اس کیمپس میں قیام کے بعد میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہے کہ یہ کیپس نا صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے بہترین کیمپسس میں سے ایک ہے ۔یہ اعتدال پسندانہ ذہن رکھنے والوں کا تعلیمی مندر ہے اور یہاں ملک کے آئین و دستور کے دائیرے میں کھلے مباحث کا پورا پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے ۔یہاں ہر موضوع پر کھل کر بحث ہوتی ہے اور اظہار خیال کی ہر طالب علم کو بھر پور آزادی حاصل ہے ۔اس بات میں کوئی حیرت نہیں کہ مختلف الخیال اور مختلف النظریات لوگوں کو اظہار خیال کا ایک وسیع پلیٹ فارم فراہم کیا ہے اس کیمپس نے ۔اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں انتہا پسندانہ نظریات اور الٹرا نیشنلسٹ نظریات کو بھی فروغ حاصل ہوتا رہا ہے ۔ایسے لوگ جو شمال مشرق میں علیحدہ مملکتوں کا مطالبہ کررہے ہیں اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ چند کشمیری ریڈیکلس اور نکلسلائیٹس کا ذہن رکھنے والے بھی یہاں پائے جاتے ہیں ۔تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ یہ فیصلہ سنادیں کہ جے این یو مخالف قوم نظریات کے حامل ملک دشمنوں کی جنت ہے ۔میں اپنے خود کے نظریہ کی بنیاد پر آپ سے یہ کہنے میں بالکل بھی عار نہیں محسوس کرونگا کہ سماج کے ہر گوشے میں انتہا پسندانہ نظریات کے حام لوگ بستے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سماج کے ایک بڑے طبقے پر حاوی ہوجائیں یا پھر سماج کو ہی بدل کر رکھ دینے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔اور پھر ان کے نظریات کو سب کے سب مان جائیں یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ایسے میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آخر کیوں جے این یو کے کردار کو مسخ کرنے کی کوششکی گئی ہے ۔میں یہاں قارئین کو یہ یاد دلانا چاہونگا کہ آ ر ایس ایس کے بانی گولوالکر نے اپنی کتاب ” دی بنچ آف تھاٹس “ میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے تین دشمن ہیں مسلمان کرسچین اور کمیونسٹ ۔جے این یو نے ہمیشہ سے ہی ہندوتوا نظریات کو سرے سے مسترد کیا ہے ۔اور ہندوتوا کے نظریات نے لاکھ کوششوں کے باوجود کبھی بھی جے این یو میں جگہ نہیں بنا پائی ۔ اور پھر جے این یو کیمپس ہمیشہ سے ہی بائیں بازو کے نظریات کا ایک مضبوط گڑھ بنا رہا ہے ۔ایسے میں ہندو ریڈیکلس کی نظروں میں ہمیشہ سے ہی اگر جے این یو کھٹکتا رہا ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے ۔ایسے میں محض چند نعروں کی بنیاد پر جے این یو کو بلی کا بکرا بنانے میں ا نہوں نے ذرا سی بھی دیر نہیں لگائی ۔تاہم ان شر پسند عناصر کو یہ بھی بخوبی یادرکھنا ہوگا کہ بہترین تعلیم گاہیں صدیوں میں تیار ہوتی ہیں اور کسی تعلیم گاہ کسی ادارے کو تباہ کرنے میں ایک دن کا بھی وقت نہیں لگتا ۔ دنیا بھر کی دانش گاہوں میں جے این یو نے جو مقام پیدا کیا ہے وہ ملک کے لئے قوم کے لئے باعث افتخار ہے ۔ اور اس کے وقار کو ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش صرف اس ادارے کے لئے نہیں بلکہ قومی مفاد کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی ۔

مگر یہاں ایک بڑا سوال جو پیدا ہوتا ہے وہ ہے جے این یو کا دفاع کرنے والے کسی بھی شخص کی شبیہ کو بگاڑنے کی کوشش ۔جو بھی شخص اظہار آزادی کی وکالت کریگا کشمیر کے مسئلہ پر کچھ بولنے کی کوشش کریگا وہ باغی کہلائے گا اور دیش کا غدار بھی ۔کنہیا کے خلاف بغاوت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔آج کے دن تک بھی کنہیا کمار کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔یا پھر غداری کے المام کو ثابت نہیں کیا جاسکا ہے ۔مگر افسوس کہ حکومتی حلقوں یا پھر آر ایس ایس کے نظریات کے حامل لوگوں نے پہلے ہی یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ غدار ہے اور ملک دشمن بھی ۔ صورتحال اس وقت اور بھی سنگین ہوجاتی ہے جب اسے کمرہ عدالت میں پیٹا جاتا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔یہاں سب سے زیادہ تشویش کی بات جو ہے دیگر جمہوری اداروں کے رویہ کی ہے ۔ وکلا جن کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ کمرہ عدالت میں ملزموں کے انصاف کے لئے لڑیں انہوںنے از خود قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور ہر اس شحص کے خلاف تشدد پر اتر آئے جو ان کے خیالات سے اختلاف رکھتا ہے ۔چاہے وہ میڈیا ہو یا پھر وہ مبصرین جو حالات کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر کمرہ عدالت آئے ہوں ۔افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہوتا رہا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ۔سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود پولیس نے وکلاءکو عدالت کے احاطے میں تشدد کرنے دیا مارپیٹ کرنے دی اور دہشت کی ایک لہر چلتی رہی اور پولیس نے کچھ نہیں کیا ۔اور افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ اس تحریر کے ضبط میں آنے تک بھی وہ جنہوںنے عدلیہ کو پامال کیا اور عدلیہ کے احطے میں تشدد برپا کرتے رہے آزادانہ گھوم رہے ہیں ۔

یہاں ٹی وی چینلس کے ایک سیکشن کے رول کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ کچھ مدیروں اور اینکروں کے آن ایر یعنی نشریات کے دوران رویہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ان کا رویہ وہی تھا جوکہ ان وکلا کا تھا ۔انہوںنے جس طرح سے ٹی وی کا ایک ہسٹریا تخلیق کیا ہے اس سے کنہیا کے خلاف ایک رائے عامہ بنے اور کنہیا کمار اور ان کے حامیوں کے خلاف ایک نفرت کی فضا پیدا ہو یہ زیادہ مشکل نہیں تھا ۔اور پھر مختلف چینلوں نے کنہیا کمار کو ملک کا غدار بنانے کی دوڑ میں جو ویڈیوم جاری کئے وہ بھی جلتی پر تیل کا کام کر گئے ۔کنہیا کے خلا جذبات بھڑکانے میں ان چینلوں نے جانب داری کی تمام حدیں پار کردی تھیں ۔شکر ہے کہ کچھ سنجیدہ چینلوں نے بعد میں ان فرضی ویڈیو کی حقیقت آشکار کی اور دکھایا کہ کیسے ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھار کرکے ایک پروپگنڈہ جنگ چھیڑی گئی تھی ۔اس فراڈ کے ٓاشکار ہونے کے بعد ان چینلوں کو چاہیے تھا کہ غلط بیانی کے لئے معذرت کرتے اور افسوس کا اظہار کرتے مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا ۔اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ کیسے ان چینلوںنے ہم جیسے لوگوں کو ایک علط بات کو تسلیم کرنے کے لئے مجبور کیا اور اس جرم میں ہمیں بھی شریک مجرم بنایا ۔

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے یہاں قانون کی حکمرانی ہے۔جنہوںنے بھی جے این یو میں مخالف ہند نعرے لگائے ان کے خلاف قانون اپنا کام کریگا ۔انہیں گرفتار کیا جایگا اور ملک کے آئین کے مطابق انہیں سزا دی جائیگی ۔اس سلسلے میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی اور اس معاملے میں کوئی نرمی بھی نہیں برتی جاسکتی ۔مگر ملک میں اس مسئلے پر نفرت کی فضا پیدا کرنے کو ایکسکیوز نہیں قرار دیا جاسکتا ۔وکلا جج بن کر قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے ۔اور کوئی ایم ایل اے کسی کارکن کو اس طرح سر عام نہیں پیٹ سکتا ۔مخالف جماعتوں کے دفتروں پر حملے نہیں کئے جاسکتے ۔اور تو اور پولیس اپنی ڈیوڈی سے اس طرح غفلت نہیں برت سکتی اور اپنے فرائیص سے یوں پہلو تہی نہیں کرسکتی ۔میڈیا کے لوگوں کو اس طرح پیٹا نہیں جاسکتا ۔سپریم کورٹ کے احکامات کو یوں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔اور ٹی وی ایڈیٹرس یوں ٹی آر پی کے چکر میں پر جوش نہیں ہوسکتے ۔اگر یہ سب کچھ ہورہا ہے تو پھر اس جمہوری ملک کے مستقبل کے حوالے سے بہ آسانی یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے ۔

یہ وہی رجحان ہے جس کے سردار پٹیل نے گوالکر کو اپنے اس مشہور خط میں حوالے دئے تھے ۔نفرت کو ہوا دینا بہت ااسان ہے مگر ان عناصر کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ وہی نفرت ہے جس نے ایک عرصہ پہلے مہاتما گاندھی جیسے عظیم انسان کے قتل کا باعث بنی ۔ہم اب ایسے کسی اور نقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔اس نفرت کو فوری روکنا ہوگا ۔یہ کسی کے لئے بہتر نہیں ہے ۔

(یہ ممضمون عام آدمی پارٹی کے قائد آشوتوش نے انگریزی میں لکھا ہے۔ جس کا ترجمہ سجادالحسنین نے کیا ہے۔ )