مائیکروسافٹ کی کامیابی کا راز'سہی ثقافت': سری کانت كرن كوٹا

0


انسان کی فکری صلاحیت کی کامیابیوں، اس کے فن اور اظہار کو ثقافت کہتے ہیں؛ ایک انسان یا سماج کے خیالات، ان کے رسم و رواج اور سماجی رویے کو؛ یا پھر ایک سماجی گروپ کے رویہ اور عملی خصوصیات کو ثقافت کہا جا سکتا ہے۔

ٹیكسپاركس -2016 واقعہ کے دوران مائیکروسافٹ ایجيور کے کنٹری ہیڈ سری کانت كرن كوٹا نے اسٹارٹپ اور دوسری کمپنیوں کے بانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی کام کس طرح مکمل کیا جائے، یہ فیصلہ لینے کا فن ثقافت کو جنم دیتا ہے۔ ثقافت کے معنی کئی اقسام کے اقدار اور عملی طور پر بیان کیے جا سکتا ہے- دوسروں کے تئیں سالمیت، ایمانداری، عزت جیسے کئی اقدار ان میں شامل ہیں۔

سری کانت کے مطابق یہی بنیادی اصول کمپنی کی ثقافت کا تعین کرتے ہیں اور یہ بھی طے کرتے ہیں کہ کمپنی کس طرف اور کس طرح بڑھے گی۔ مائیکروسافٹ کی ترقی کا اصلی راز کمپنی میں صحیح ثقافت کا ہونا ہے۔ ترقی کی صحت مند ثقافت پر روشنی ڈالتے ہوئے سری کانت نے مائیکروسافٹ کی طرف سے منسلک اقدار اور منافع کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا جن کے پیچھے کمپنی کی ثقافت کا بڑا اہم کردار رہاجب سال 2009 میں مائیکروسافٹ نے اپنا سرچ انجن بنگ لانچ کیا بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ ایک اور سرچ انجن کی کیا ضرورت تھی۔ اس نئے پروڈکٹ کو لے کر بیرونی دنیا کافی کشمکش میں تھی۔ آج سات سال گزر چکے ہیں اور ڈیسک ٹاپ سرچ کے معاملے میں مائیکروسافٹ کی حصہ داری 21.6 فیصد ہے۔ سری کانت کے مطابق، محنت اور کام کرنے کی ضد یہ دونوں دو خصوصیات ہی ایک پروڈکٹ کو بلندی پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔

صحیح ثقافت کی تعمیر کس طرح کریں؟

صرف ٹیکنالوجی کے ذریعے کمپنی کو آگے نہیں بڑھا جا سکتا یہ کام اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا، جب تک کمپنی کے قریب خوبصورت سوچ نہ ہو جسے ہم ثقافت کہتے ہیں۔ اس لیے سب کچھ جاننے سے اچھا ہے آپ سب کچھ سیکھے۔ سری کانت کہتے ہیں کہ کمپنی کو اپنے ملازمین میں اور انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان ایک ثقافت تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ ایک انتہائی دوستانہ ثقافت پر بڑی بڑی باتیں صرف بات چیت یا پاور پوائنٹ سلائیڈ تک محدود نہیں رہنا چاہئے. بلکہ، اس کے بانیوں اور ملازمین کے دل و دماغ میں رچی بسی ہونا چاہئے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories