تبسم حَسن کا کارنامہ... 50سال کی عمر میں شروع کی تجارت اب ملک کے بڑے شہروں تک پہنچنے کامنصوبہ 

کوکیز سے لے کر کیک تک کئی ساری اشیاء....ماں بیٹی مل کر چلا رہے ہیں 'گلٹ ٹرپ'....حیدرآباد میں بھی توسیع کا منصوبہ 

0

عمر کی پچاس بہاریں گزر جانے کے بعد جس کام کی شروعات تبسم حسن نے کی تھی اس کے لئے یقیناً بڑی ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ تببسم حسن نے بڑا جوکھم مول لیا تھا کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ریٹائرمنٹ کے بعد ملی ساری رقم نئے کاروبار میں لگانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے 'گلٹ ٹرپ' نامی اپنے نئے کاروبار وہ سارا روپیہ سرمایہ کے طور پر لگا دیا، جسے اکثر لوگ بڑھاپے کا سہارا سمجھ کرمحفوظ رکھ لیتے ہیں۔

'گلٹ ٹرپ' وہ اسٹارٹپ ہے، جسے انہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر سال 2012 میں شروع کیا تھا۔ تببسم کا کہنا ہے کہ "میں بہت ڈری ہوئی تھی اور اس بات کو جانتی تھی کہ یہ بہت بڑا خطرہ ہے، وہ اس وجہ سے مارکیٹ میں پہلے ہی بہت سخت مقابلہ ہے کیونکہ ہماری دکان کے قریب ہی پہلے سے موجود دو ایسے اسٹور کام کر رہے تھے۔"

ممبئی کے کھار علاقے میں موجود اپنی دکان کے بارے میں تببسم کا کہنا ہے کہ وہ جانتی تھی کہ ان کا اسٹور دوسروں سے ہٹ کر ہے اور وہ لمبی دوڑ میں ٹکی رہ سکتی ہیں۔

باوجود اس کےکہ انہوں نے اپنی مہارت پر توجہ مرکوز کی اور لاجواب فرانسیسی میكرون، امریکی کیک اور کوکیز کے مختلف ذائقوں کو فروخت کرنا شروع کیا۔ تببسم جو بیکر ماسٹر ہیں وہ ہمیشہ چاہتی تھیں کہ بیکنگ کے لیے پیشہ ورانہ طریقے سے کام کیا جائے لیکن گھر میں بچوں کی تعلیم و تربیت میں سارا وقت گزر جاتا، اس لئے انہں یہ موقع نہیں ملا۔ تببسم کا کہنا ہے کہ "میرے شوہر چاہتے تھے کہ میں بچوں کی اچھی دیکھ بھال کروں کیونکہ وہ اپنے کام میں مصروف رہتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں جو کرنا چاہتی ہوں وہ کچھ وقت کے بعد کر سکتی ہوں۔"

تببسم نے صبرکیا، اپنے بچوں کے بڑے ہونے کا انتظار کرتی رہیں۔ شوہر کے ریٹائرمنٹ سے ٹھیک ایک سال پہلے تببسم کے سامنے ان کی بہن نے ایک تجویز پیش کی کہ کیوں نہ وہ دونوں مل کر بیکنگ کے علاقے میں اپنا کاروبار کی شروع کریں۔ جسے تببسم نے خوشی خوشی مان لیا۔ اس طرح وہ محبت اور مٹھاس والے اس کاروبار میں 50 فیصد کی حصہ دار کے طور پر جڑ گئیں۔

تقریباً ایک سال تک اپنی بہن سے ساتھ کاروبار کرنے کے دوران انہں محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ اس طرح کام نہیں کر پائیں گی۔ اس لئے انہوں نے اپنی حصہ داری واپس لے لی۔ جس کے بعد تببسم نے اپنی بیٹی صبا کے ساتھ مل کر ممبئی کے کھار علاقے میں نئی شروعات کی۔اس وقت تببسم 50 سال کی تھیِں۔ تجارت کے میدان میں قدم رکھنے کے اپنے اس فیصلے کے بارے میں تببسم کا کہنا ہے، "عمر کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور میں اس کاروبار کے بارے میں کافی حوصلہ رکھتی تھی۔ یہ ایک طرح کا نیا چیلنج تھا اور ہم دونوں نے جوش کے ساتھ اس کا سامنا کیا۔"

اس کام کو شروع کرنے سے پہلے تببسم نے اپنے بیکنگ کی مہارت میں نکھار لانے کے لئے سنگاپور جاکر ایک ماہ پروفیشنل کورس بھی کیا۔

مارکیٹنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد صبا نے این ڈی ٹی وی ایمیاجن اور جی نیوز میں کیریئر بنانے کی کوشش کی، لیکن وہ یہاں پر زیادہ طویل مدت تک ٹک نہیں سکیں۔ تببسم کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو لے کر واضح تھی کہ صبح 9 سے شام 5 بجے تک کام نہیں کر سکتی اور وہ چاہتی تھی کہ کچھ ہٹ کر کیا جائے۔" 30 سال کی صبا کی شادی حال ہی میں ہوئی ہے اور وہ اپنی ماں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

 دبئی کے ایس پی جین اسکول آف گلوبل مینجمنٹ سے ایم بی اے میں گولڈ میڈلسٹ صبا ‘گلٹ ٹرپ’ میں ٹیکنالوجی سے منسلک چیزوں کو دیکھتی ہیں۔ جبکہ ان کی ماں باورچی خانے میں نئی چیزوں کو بنانے اور مختلف طرح کے تجربے کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔ اس اسٹارٹپ کو شروع کرنے سے پہلے صبا نے بھی بیکنگ کو لے کر ایک کورس کیا ہے تاکہ وہ بھی اس کام کی تفصیلات کو جان سکے۔ ان خاص طرح کے کیک بنانے کی مہارت حاصل ہے۔ وہ مختلف طرح کے فلیور اور كسٹمائزڈ تھری ڈی کیک بنا سکتی ہیں۔

‘گلٹ ٹرپ’ کے دونوں بانیوں کا منصوبہ ہے کہ شہر میں اب ایسے پانچ اور اسٹور کھولے جائیں۔ فرنچائزز کے ساتھ مل کر یہ لوگ اندور اور حیدرآباد میں بھی اپنے کام کو توسیع دینا چاہتی ہیں۔ تببسم کا کہنا ہے، "ہم دونوں میں اچھا تال میل ہےاور ہم کو اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے۔ آج تک ہم دونوں کے درمیان خیالات کو لے کر کبھی بھی فرق نہیں آیا۔ ہم دونوں اس کوشش میں لگے ہیں کہ اپنے کام کو توسیع دیں۔ "

Related Stories