ممبئی میں خواتین کے لئے مدرسہ چلا رہی ہے ایک دلت خاتون

 کرلا اسٹیشن کے پاس واقع بستی میں خواتین کو تربیت دے رہا ہے  سجاتا  کا آدرش فاونڈیشن

0


سماج اور قوم کے لئے کچھ کرنےکا جذبہ ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس کا فائدہ حاصل کرنے والے کس مذہب کےلوگ ہیں، اپنے ہیں یا پرائے ہیں۔ بس یہی خواہش ہوتی ہے کہ کام کئے جائیں۔ جن کے لئے کام کیا جا رہا ہے ان کے دکھ درد دور کرکے ان کے غم زدہ چہروں پر مسکراہٹ بکھیری جائَے۔ ایسے چراغ مخالف ہواؤں میں بھی جلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک چراغ ممبئ کے کرلا اسٹیشن سے کچھ دور واقع ایک بستی کسائی واڑہ میں جل رہا ہے، جہاں ایک دلت خاتون مسلم خواتین کی تربیت کے لئے مدرسہ چلا رہی ہیں۔ در اصل مقامی افراد نے ایک کمرے میں بچوں کے لئے مدرسہ شروع کیا تھا۔ اسی مدرسے میں سجاتا نے خواتین کی تربیت شروع کر دی۔ تاکہ غریب بستی کی خواتین آنے والی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں اپنی ذمہ داری نبھا سکیں۔

سجاتا نے یور اسٹوری اردو کو بتایا کہ خواتین کی فلاح و بہبود ان کا اہم مقصد ہے۔ خصوصاً یہ علاقہ جہاں وہ کام کر رہی ہیں۔ یہاں ذیادہتر مسلمان رہتے ہیں اور یہاں کے حالات دیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ خواتین کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بتاتی ہیں،

''میں مسلم کمیونٹی میں کام کر رہی ہوں۔ ممبئی کی جھگی بستیوں میں آج بھی تعلیم کے بارے میں لوگوں میں شعور نہیں ہے۔ لڑکیاں ساتویں آٹھویں تک مشکل سے پڑھ پاتی ہیں۔ کم عمری میں ان کی شادی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر شوہر نشہ باز نکل جائے تو اس لڑکی کی ساری زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ شرابی شوہر یا تو نکما بن جاتا ہے یا پھر اکثر اوقات نشے کی وجه سے اس کی موت ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں اس عورت کی معاشی حالت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔''

سجاتا ممبئی یونیورسٹی سے کامرس کی گرےجویٹ ہیں اور اكاونٹس کا ڈپلوما رکھتی ہیں۔ ایک کمپنی میں 15 سال تک ملازمت کر چکی ہیں اور اب ایک کمپنی چلاتی ہیں جو اکاونٹنسی اور پلیسمینٹ کے میدان میں کام کرتی ہیں۔

ممبئی کے كسائی واڈہ میں کام کرنا ان کے لئے آسان نہیں تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ پہلے تو کام کے لئے خواتین اور لڑکیوں کو گھر کے باہر نکالنا مشکل ہے۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے لئے تربیتی پروگرام شروع کیا۔ تاکہ وہ تھوڑا گھر کے باہر نکل سکے۔ اس كے لئے وہاں پر ایک کمرے کا مدرسہ بزم فرقان چلتا تھا۔ خالی وقت میں عورتوں اور لڑکیوں کے لئے تربیت کا پروگرام شروع کیا گیا۔ وہ بتاتی ہیں'

''خواتین کو یہاں تک بھی لانا مشکل تھا۔ اس کے لئے دو ماہ سے زیادہ عرصہ تک ایک سروے کیا گیا اور لوگوں کو اس کے لئے ترغیب دی گئی۔ پہلے پروگرام میں پانچ ہزار لوگوں میں سے صرف 22 خواتین اس تربیت کے لئے سامنے آئیں۔''

سجاتا نے بتایا کہ بستی کے لوگوں خصوصا شمیم بھائی، بھولا بھائی اور شاہد بھائی نے مدد کے لئے ہاتھ بڑھائے۔ مدرسہ انہوں نے شروع کیا تھا، تاکہ بستی کے بچے کچھ پڑھ لکھ جائیں۔ بعد میں جب سجاتا نے خواتين کے لئے بھی سرگرمیاں شروع کی تو مہاتما گاندھی سینٹر کے سدھیندر کلکرنی نے بھی وہاں کا دورہ کیا اوران کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ بتاتی ہیں'

''مقامی بچوں کے لیے ہم نے چھوٹاسا پروگرام رکھا۔ اس کے لئے بچوں نے دو دن خوب محنت کی اور بہت اچھے ثقافتی پروگرام پیش کیے۔ ان بچوں میں اتنی صلاحیت تھی کہ انہیں صحیح راستہ دکھایا جائے تو وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔''

مدرسہ ایک ہی کمرے کا تھا۔ خواتین کو دو گھنٹے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس ٹریننگ کے بعد انہوں نے ان کے لئے پلیسمنٹ کرنے والوں سے بات کی۔ اس کے لئے جب ایک کمپنی سے بات ہوئی تو وہاں سے بڑا روکھا جواب ملا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلم خواتین کو کام نہیں دیتے۔ وجه پوچھی تو بتایا گیا کہ مسلم خواتین کو کام دینے سے مینیجمینٹ نے منع کر دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں،

''میں نے ان سے کہا کہ مسلم خواتین کو کام نہ نے دینے کے بارے میں تحریری طور پر دیں۔ وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے گفتگو جاری رکھی۔ پیچھا نہیں چھوڑا۔ اور آخرکر وہ مان گئے، لیکن وہ جگہ اس بستی سے کافی دور تھی۔ ہم نے 22 لوگوں کو تربیت دی تھی ان میں سے 11 خواتين نے نوکری کرنے میں دلچسپی دکھائی۔ انہیں میں كاندي ولی لے گئی۔ شاید کام کے لئے پہلی بار وہ بستی سے باہر نکلی تھیں۔ واپس آتے آتے وہ اتنا تھک گئیں کہ دوسرے دن چلنے سے انکار کر دیا۔''

خواتین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لئےایک اور شخص کی مدد لی۔ ان سے کہا کہ کچھ گھر ایسے ہیں کہ جہاں ایک بار ہی چولہا جلتا ہے۔ ان کے لئے کچھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے سومايا ہاسپٹل والوں سے بات کی جو بستی کے نزدیک ہیں۔ وہاں آنکولوجی ڈپارٹمنٹ نیا کھلا تھا۔ انہوں نے 5 خواتين کو وہاں ملازمت دلوائی۔سجاتا بتاتی ہیں'

''جب پہلی تنخواه ان کے ہاتھ میں آئی تو ان کی خوشی کا اندازہ نہیں تھا۔ مقامی خاتون آمنہ بی کی ایک بیٹی ہے، کسی طرح انہوں نے پیسے جٹاكر اس کی شادی کر دی تھی، لیکن ایک بچے کی پیدائش کے بعد بیٹی پیدا کرنے کا الزام لگا کر اسے گھر سے باہر نکال دیا۔ یہاں اس کے والد کا بھی انتقال ہو گیا۔ اب اس کی دوسری شادی بھی ممکن نہیں تھی۔ ماں اس کو دیکھ دیکھ کے روتی تھی۔ بیٹی کے ساتھ ساتھ نوسی بھی اس کے ذمہ داری تھی۔ اس لڑکی نے کام سیکھنے میں دلچسپی دکھائی اور اسے جب پہلی تنخواه 8300 روپے ملی تو اس کی ماں خوشی سے رونے لگی۔''

یہ بتاتے ہوئے سجاتا کی آنکھوں میں نئی چمک آجاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں'

'' اس دن مجھے احساس ہوا کہ زندگی میں اپنے لئے تو کچھ نہیں کیا، لیکن جس دن مروں گی تو بہت سے لوگ روئیں گے۔''

سجاتا کے مطابق جہاں وہ کام کرتی ہیں، اسے لوگ پولٹكل پاکیٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ الیکشن کے زمانے میں ہی کچھ لوگ آئیں گے اور مقامی لوگوں کا ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرکے بڑے بڑے وعدے کر کے چلے جائیں گے۔

مقامی لوگوں کی ایک مشکل کا ذکر کرتے ہو ئے سجاتا بتاتی ہیں کہ ان بچوں کے لئے بستی میں کوئی اسکول نہیں ہے۔ ایک اردو اسکول بستی کے اس طرف ہے، جہاں جانے کے لئے بچوں کو یا تو ڈھائی کلومیٹر تک پیدل چل كر جانا پڑتا ہے یا پھر گندے نالے سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ اس نالے پر ایک پل کی تعمیر کے لئے کئی بار حکومت سے اپیل کی جا چکی ہے، لیکن اس طرف کی بستی والے کچھ امیر لوگوں کی سوسائٹی اس پل کی تعمیر کی مخالفت کر رہی ہے۔ ایک اور مسئلہ وہاں کی بستی کا یہ ہے کہ کام کو جانے کے لئے وہاں کے لوگوں کو پٹرياں پار کرکے جانا پڑتا ہے۔ اگر کوئی مالگاڑی رکتی ہے تو گھنٹوں وہ راستہ بند ہو جاتا ہے۔

بستی کے نوجوانوں میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے، وہ راستے میں چبوتروں پر ہی تاش کھیلنے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ سب روکنے کے لئے پولیس میں شکایت کی تو انہوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ جب ایک سیاسی قائد سے بات کی تو انہوں نے جو کچھ کہا اس سے دوسرا مسئلہ کھڑا ہونے کا اندیشہ تھا۔ انہوں نے کہا' ''آپ ہماری پارٹی کا پرچم بستی میں لگا دیجئے، ایک آفس کھولنے کا اانتظام کرو اور پارٹی کے سو ڈیڑھ سو کارکن وہاں لے جاؤ تو دہشت بنے گی۔''

سجاتا بتاتی ہیں کہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ آ رہی ہیں۔ مدرسے کا جو خرچ ہے وہ مہاتما گاندھی سینٹر سے آ رہا ہے۔ میری فاؤنڈیشن کی ٹیم میں سب اپنا خرچ خود کرتے ہیں۔ ایک ڈائلسیس کا پیشنٹ ہے، جسے سماجی خدمت کا جذبہ ہے۔ وہ خود اپنا خرچ کر کے وہاں دو دن میں ایک بار آتا ہے۔ کیونکہ جس دن اس کا ڈايلسس ہوتا ہے، اس دن اس میں اتنی کمزوری ہوتی ہے کہ جیؤں یا مروں والی حالت سے گزرنا پڑتا ہے، لیکن دوسرے دن وہ ضرور آتا ہے اور تربیت کے کاموں میں حصہ لیتا ہے۔ وہ کرلا ویسٹ سے آتا ہے۔ کبھی سواری کا پیسہ نہ ہو تو وہ پیدل چلا آتا ہے۔

خواتین اگر سیکھتی ہیں تو اس کا اثر پورے خاندان پر پڑتا ہے۔ سجاتا انہیں مفت ٹریننگ فراہم کرنےکی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے لئے بھی پروگرام چلانے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ وہ بتاتہ ہیں'

'' ہم نے نوجوانوں کے لئے بھی کوشش کی کہ انہیں ٹریننگ دیں، لیکن بہت سے نوجوان مفت خوری کے شکار ہیں۔ ماں برتن مانجھ کے گھر چلا رہی ہے اور یہ دن بھر ادھر اودھر گھوم رہے ہیں۔ ایک ادارے میں 15000 روپے تک کی تنخواه کی ملازمتیں تھی۔ ہم نے نوجوانوں سے کہا کہ ایک ہفتے کی تربیت سے کام چل جائے گا، لیکن کوئی آگے نہیں آیا۔ کچھ نوجوانوں کو نشے کی عادت ہے۔ اس وجه سے بھی ان میں کام کرنے کی قوۃ ارادی نہیں ہے۔ اس لئے ہم نے اب مکمل توجہ لڑکیوں، خواتین اور بچوں پر لگا دی ہے، تاکہ آنے والی نسلوں میں ہی صحیح کچھ تبدیلی آئے۔''

سجاتا نے ڈیڑھ ماہ کے کام کے بعد 5 لڑکیوں ملازمتیں مل گئی ہیں۔ لیکن روایتی سوچ رکھنے والے کچھ آفراد اب بھی ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں،

''ایک لڑکی کے والد آئے اور مجھے نصیحت کرنے لگے کہ مسلم معاشرے میں لڑکیاں باہر نکل کر کام نہیں کرتیں اور ان کی کمائی کھانا حرام ہے۔ انہوں نے بہت برا بھلا کہا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ خود اپنے گھر کا خرچ مشکل سے چلا پاتے ہیں۔ اس وجه سے بچیوں کو اچھی تعلیم بھی نہیں دے سکتے۔ گھر کا خرچ چلانے کے لئے بیوی کہیں برتن مانجھتی ہے۔ بیٹی سہمی سہمی رہتی تھی، لیکن جب اس نے تربیت حاصل کی تو اس میں اعتماد بڑھا اور پھر اس نے اپنے گھر کہ كفالت کرنے کے لئے ملازمت کی ٹھانی۔ میں نے اس کے والد سے کہا،

''اگر ایسا ہے تو پھر اس کی تنخواه کو ہاتھ مت لگانا۔ جب اس کی شادی ہوگی تو یہ پیسہ اس کے کام آئے گا۔ اس دن سے حالانکہ وہ صاحب مجھ سے منھ موڈ کے نکل جاتے ہیں، لیکن لڑکی کی ماں اب معاشرے کی دوسری خواتین کو باشعور کرنے کی تحریک میں میرا ساتھ دے رہی ہیں۔''

..................................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں..

خواتین اور معذور بچوں کی جہدکار عائشہ روبینہ

موت کے منہ سے نکل کر سلطانہ نے لڑی ظلم کے خلاف جنگ اور بنی جہدکار



پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem