20لاکھ سے زائد پنچانگ میگزین بیچنے والا ’کال نرنے‘

0

دنیا میں دوطرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک تووہ جوپیسے کے لئے سب کچھ کرتے ہیں پیسے کے بغیر بات تک کرنا پسند نہیں کرتےدوسرے وہ جو پیسے توکماناچاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بڑے مقصد کے لئے کام کررہے ہوتے ہیں بڑے سماج کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں اور اپنی اس خواہش میں وہ اپنا سب کچھ جھونک دیتے ہیں کچھ ایسی ہی کہانی ہے ’کال نرنے ‘ پبلی کیشن کیکال نرنے دراصل پنچانگ میگزین شائع کرتاہےکال نرنے کی کامیابی کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ گذشتہ 45برسوں سے مسلسل کامیابی کے ساتھ وہ پنچانگ میگزین شائع کر رہا ہے اورآج ملک کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کاپیوں میں شامل ہےفروخت ہونے والی کاپیوں کی تعداد 20لاکھ ہےکال نرنے اشاعتی ادارے کو چلانے والے ممبئی کے مراٹھی کنبے سے تعلق رکھتے ہیں اور سابقہ دونسلیں اس کام کونہایت ہی نئے نئے تجربات کے ساتھ چلاتی آرہی ہیں یوراسٹوری نے کال نرنے پبلشر کی دوسری نسل کے ذمہ دارجے راج جی سالگاؤنکر سے ان کے دادرواقع دفتر میں ملاقات کی۔

جے راج جی کے والد کال نرنے پنچانگ میگزین کے بانی آنجہانی جینت راؤجی سالگاؤ نکر ’جیوتربھاسکر‘ کے نام سے مشہور رہے ہیں انھیں کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے جے راج جی نے بھی ہر ایک شعبے میں کامیابی حاصل کی ہےممبئی کے روئیاڈگری کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد کال نرنے کی ترقی میں حصے داربنتے بنتے انھوں نے تاریخ، اقتصادیات، توانائی، جنگلات ، ماحولیات، سیاحت، کامگار، انٹرپرینیورشپ، پبلی کیشن جیسے متعددمضامین کا مطالعہ کیااسی کی بدولت متعدداہم اداروں کے نگراں اورصلاح کاررہے ہیں اس کے علاوہ کال نرنے پنچانگ میگزین کی بخوبی دیکھ بھال کررہے ہیں صوتی آلودگی کم کرانے کی کوشش میں انھوں نے قابل ذکر کام کیا ہے۔

عام طورپر یہ مانا جاتاہے کہ مراٹھی خاندان ایک توکاروباری دنیا میں کم دلچسپی لیتاہے اور اگرلیتا ہے تو اس کی مدت لمبی نہیں ہوتیوجہ خواہ کچھ بھی ہولیکن کال نرنے پنچانگ میگزین کے سالگاؤنکر کنبے نے اسے غلط ثابت کردیاسترکی دہائی میں جے راج جی کے والد جیوتربھاسکر جینت راؤ جی نے اشاعت کاکام شروع کیا اورآج یہ کاروبار پوری دنیا میں پھیل چکا ہےملک کے ہرگاؤں شہر سے لے کر دنیابھر کے تمام ممالک میں یہ پبلی کیشن مقبول ہوگیا ہےاس کامیابی کاراز مسلسل محنت، مشق اورگاہکوں کے مفاد میں ہربار کچھ نیادینا ہےجے راج نے بتایا:

’’پچھلے 45سالوں سے کال نرنے پنچانگ میگزین لوگوں کی روزمرہ زندگی کاحصہ ہےہم نے لگاتاریہ غورکیا کہ لوگوں کوان کی ضرورتوں کے مطابق ہر وقت کچھ نیا کیادیاجاسکتا ہےاورجب کوئی نئی بات سامنے آتی ہے توہر قیمت پر وہ گاہکوں کے مفاد میں فراہم کرنے کے لئے ہم کوشاں رہتے ہیں اس کے لئے چاہے جتنی محنت اور منصوبہ بندی کیوں نہ کرنی پڑےہم نے اپنے کام کوسب سے زیادہ ترجیح دی۔

جے راج جی کہتے ہیں :

’’ہم نے صرف ایک ’دن درشکا‘ پنچانگ میگزین نہیں شائع کی، بلکہ سالانہ بھی شائع کرتے ہیں جس میں صحت ، پاکستانی آرٹ، آرائش وزیبائش اور سبھی مذاہب کے پیروکاروں کے لئے اچھی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

کال نرنے کے بارے میں انھوں نے کہا:

’’پتاجی جینت راؤجی پچاس کی دہائی میں ممبئی آئےاس وقت ایک مراٹھی اخبار میں مراٹھی کوئز دینے کاکام کرتے تھےوہ ان کی پہلی اورآخری نوکری کرنے کاتجربہ رہااس کے بعد انھوں نے مراٹھی کوئز دینے والے اپنے پبلی کیشن کوشروع کیااس کانام تھا’شبدرنجن ‘جنوری1973میں پہلی بار کال نرنے پنچانگ میگزین کی چھپائی کی گئیمراٹھی میں تیار شدہ وہ پہلی پنچانگ میگزین تھی جو دیوار پرسال بھر ٹانگ کر ہر وقت استعمال میں لائی جاسکتی تھیاسی سال اس کی 25ہزارکاپیاں فروخت ہوگئیں ۔‘‘

آج45برسوں کے بعد کال نرنے پنچانگ میگزین ملک کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی میگزین ہےجس کی انگریزی سمیت ملک کی الگ الگ نوزبانوں میں 20لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ موبائل ایپ اور ویب سائٹ پورٹل کے ذریعے دنیا بھر میں یہ استعمال میں لائی جاتی ہےکامیابی کااندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ سال کے شروع میں ہی ہرگھر میں کال نرنے کا ہونا لازمی ساہوگیا ہےکال نرنے کاروبار اب کروڑوں کی لاگت والابن گیا ہےممبئی کے اندھیری مضافاتی شہر میں کال نرنے کی طباعت کاکام سال بھر چلتا رہتاہےجے راج جی کہتے ہیں :

’’مراٹھی طباعت واشاعت کے شعبے میں سب سے پہلے رنگیں پرنٹنگ کاآغاز ہم نے کیااس کے علاوہ دوردرشن پرپروگراموں کو اسپانسرکے طورپر اشتہاردینے کی شروعات کاسہرہ بھی کال نرنے کوجاتا ہے۔‘‘

جے راج جی اور ان کے بھائی جیندرجی نیز کنبے کے اراکین آج بھی کال نرنے کاطباعتی کاروبار چلارہے ہیں آرٹ، تہذیب وتمدن اور ادب کا امتزاج رکھنے والی یہ پنچانگ میگزین ہرروز کی تاریخ،دن اورنیک شگون کی معلومات کے ساتھ ہی روز مرہ کے استعمال کےاقوال دینے میں کام آتی ہے اس کے لئے اس میں ڈے پلان تیارکرنے کاآزادنظام بنایا گیا ہےگاہکوں کو اس میں اپنے اہم کام کاج کاریمارک رکھنا آسان ہوتاہے اور کئی بارضرورت کے مطابق وہ سامنے رکھاجاسکتا ہےاسی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سے لوگ کئی برسوں کاحساب کتاب اسی میگزین کے ذریعے رکھتے ہیں ۔

جے راج کہتے ہیں :

’’کال نرنے کی کامیابی دیکھ کربازار میں اسی طرح کی کل42 اشاعتیں آج آگئی ہیں ، جیسے لہر سی آگئی ہو، مگر اپنی اہمیت اور مقبولیت کو قائم کرکے کال نرنے آج بھی اس بھیڑ میں اپنی الگ پہچان بناکر سب سے آگے رہا ہے۔‘‘

کال نرنے نے سماج کے کسان، مزدوروغیرہ طبقات کا ہمیشہ خیال رکھا اور ان کی ضرورتیں کیاہیں اس طرح کی تبدیلی بھی میگزین میں کی گئیانھیں وجودہ سے کاشت کاروں کے لئے ایک پنچانگ میگزین دینے کاکام کیا جس میں کھیتی باڑی سے متعلق معلومات مل سکیناسی طرح پاکستانی آرٹ کے لئے ذائقہ، خواتین طبقے کے لئے آرائش حسن، مستقبل، صحت ایسی الگ قسم کی معلومات فراہم کرنے والی پنچانگ میگزین شائع کی گئی جس کوعوام نے ہاتھوں ہاتھ لیایہ سب کچھ بہت آسان نہیں تھاجے راج جی کہتے ہیں :

’’سانگلی ضلع کے کسانوں کوکیا ضرورت ہوسکتی ہے اور ممبئی کے مل میں کام کرنے والے کامگار کی کیاضرورت ہے ، اس کاخیال ہم نے ہمیشہ رکھااس کے لئے ہر قسم کی معلومات جمع کی گئیلوگوں سے مل کرتبادلہ خیال کیا گیاہرنئے سال میں نئے طریقے سے میگزین دینے کی ہمیشہ کوشش رہی۔‘‘

الگ الگ ذات، طبقات اورمذاہب کے لوگوں کوجوڑتے وقت کاروبارکاخیال رکھتے ہوئے بھی لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنا اور سماجیات کا خیال رکھتے ہوئے انھیں علم دے کر تعلیم یافتہ بنانا یہ کام جینت راؤ جی نے کیاکال نرنے کی کاپیاں بیچ کراپنا روزگارچلانے والے بہت سارے ضرورت مندوں کابھی اس کے ذریعے بھلاہواسماج کی گھریلو، کاروباری اور ملازمت پیشہ سبھی لوگوں کوجوڑنے کایکساں محرک بن کر کال نرنے نے دنیا بھرمیں اپنی انمٹ شناخت بنائی ہے اور اسے برقراررکھا ہے۔جیراج جی کہتے ہیں :

’’یہ ملک غیرمذہبی ہے، یہ ماننا بڑی غلطی ہوسکتی ہےیہاں مختلف ذات، طبقات کے لوگ ہیں اور اپنی رسم وروایت کے مطابق وہ زندگی کے ہر ایک لمحے کوجیتے ہیں ان کے وقت کا اپنا اپنا مطلب، طریقہ اور رواج ہوتاہےہندوستانی آئین سے حاصل مذہب، عقیدہ اور اظہار خیال کی آزادی کاحق ذہن میں رکھ کر سبھی کی خدمت کرنی ہےکال نرنے اس کے لئے ہمیشہ کوشاں رہا ہے اور رہے گا۔

.........

قلمکار : کشورآپٹے

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Kishore Apte

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

........

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں .

اردو یور اسٹوری ڈاٹ کوم

Related Stories