بیڑی مزدور ستّمّا نے 58 سال کی عمر میں سیکھا کمپیوٹر

ماں کی ممتا بے مثال

0

تلنگانہ کے ایک دور دراز کے علاقے میں ایک ماں نے کمال کر دکھایا ہے۔ کریم نگر ضلع کے كورٹلا میں رہنے والی 58 سالہ ستّمّا نے پنے بیرون ملک رہنے والے بیٹے سے انٹرنیٹ پر بات کرنے کے لئے کمپوٹر سیکھ لیا ہے۔

ستّمّا کوایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں اور وہ بیڑی کے روزگار سے اپنی زندگی کا گزارا کر رہی ہے۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت مشکلات کا سامنا کیا۔ اپنے بڑے بیٹے کو دبئی بھیجا اور ایک بیٹا نائی کام کرتا ہے۔ اس عمر میں بھی جب اس کے سامنے ایک مرحلہ آیا تو اس نے  اپنے آپ کو کمتر نہیں سمجھا اور ناخوندہ ہونے کے باوجود اس  نے آئی ٹی کی دنیا کو دکھا دیا کہ جب ایک ماں کچھ کرنا چاہتی ہے تو اس کے جزبہ کو کوئی ڈگا نہیں سکتا۔ 

كورٹلا ٹاون میں یہاں کے بھارتی آن لائن سینٹر میں یوم خواتین کے موقع پر چالیس س سے ساٹھ سال کی عمر کی خواتین کو کمپیوٹر کی تعلیم دی جارہی تھی۔ ستّمّا کو بھی اس کی خواہش ہوئی۔اس نے انرنیٹ سینٹر والوں سے کہا کہ وہ بھِ کمپیوٹر سیکھنا چاہتی ہے۔ وہ کہنے لگی، ''مجھے میرے دبئی میں رہنے والے بیٹے سے انٹرنیٹ پر بات چیت کرنے کے لئے کمپیوٹر سیکھنا ہے۔ اور آخر کار اس نے انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے ہی لیا۔

یہ بات جب دہلی میں مرکزی وزیر روی شنکر کو پتہ چلی تو انہوںے اس کی خوب تعریف کی۔ روی شنکر ستّمّا کو کہا ہے کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے دہلی آئے۔ تاکہ اس کے بہانے دنیا کا بتایا جا سکے کے ناممکن کا ممکن کس طرح بنایا جا سکتا ہے۔

ستّمّا نا خواندہ ہے۔ وہ کبھی اسکول نہیں گئی اور نہ کبھی اس کو معلوم تھا کہ کمپیوٹر کس بلا کا نام ہے۔ لیکن ان کے پکے ارادے نے انہیں اس منزل کا راستہ دکھایا، جو یقیناً ستما کے لئے ایک نئی دنیا سے کم نہیں ہے۔ 

قلمکار: ایم اے مصور

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج    (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔

خود مشکل میں رہ کر غریبوں کے لئے لاکھوں روپے کی دواؤں کا مفت انتظام کرنے والے 79 سالہ 'میڈیسن بابا'

91سالہ ڈاکٹر 64برسوں سے کر رہی ہیں مریضوں کا مفت علاج